1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

خلیج میکسیکو: تیل کا اخراج روکنےکی اہم ترین کوشش

خلیج میکسیکو میں بیس اپریل سے سمندر کی تہہ سے پانی میں مسلسل شامل ہونے والے تیل کے اخراج کو روکنے کی ایک بڑی کوشش کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس منصوبے پر عمل درآمد امریکی حکومت کی طرف سے منظوری کے فوری بعد شروع ہوا۔

default

زیر سمندر بہنے والے تیل کا پریشر

تیل کا کاروبار کرنے والے بین الاقوامی ادارے برٹش پٹرولیم نے امریکی ساحل کے قریب خلیج میکسیکو میں زیر سمندر پھٹ جانے والے پائپ کو بند کرنےکا کام شروع کردیا ہے۔ جلد از جلد بھی یہ پتہ اگلے ایک دو روز ہی میں چل سکے گا کہ آیا کئی سو میٹر زیر سمندر بہنے والے تیل کا اخراج بند ہو گیا ہے۔ اس کوشش کو ’ٹاپ کِل‘ کا نام دیا گیا ہے۔ برٹش پٹرولیم کو عالمی برادری اور امریکی حکومت کی جانب سے سخت دباؤ کا سامنا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ پانچ ہفتوں سے بہنے والے تیل کے اس زیر سمندر بہاؤ کو روکا جا سکے گا۔

برٹش پٹرولیم کے ماہرین پہلے ایک زیر سمندر پائپ کے ذریعے اس سوراخ کو سطح سمندر سے کیچڑ ڈال کر بھریں گے جہاں سے تیل خارج ہو رہا ہے اور بعد میں اس کیچڑ کے اوپر سمینٹ کی مضبوط مہر لگا دی جائے گی۔ ماہرین ابھی تک اس بات سے بےخبر ہیں کہ زمین سے جس قوت سے تیل خارج ہو رہا ہے، اس میں زمینی کیچڑ ڈالنے سے کوئی یقینی کمی لائی جا سکے گی یا نہیں۔ اس کوشش کے ابتدائی نتائج اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں متوقع ہیں۔

Protest gegen BP Ölpest USA Flash-Galerie

خلیج میکسیکو میں برٹش پٹرولیم کے تیل تنصیبات سے بہنے والے تیل کے حوالے سے امریکہ میں احتجاجات جاری ہیں

زیر سمندر جو تیل نکل رہا ہے، اس کا دباؤ دس ہزار پاؤنڈ فی مربع انچ ہے جو انتہائی حد تک زیادہ پریشر ہے۔ ’ٹاپ کِل‘ پلان میں یہ شامل ہے کہ تیل کے بہاؤ کو اس کے منبع پر بند کیا جائے۔ اس پلان کے ذریعے کوشش کی جائے گی کہ دس ہزار پاؤنڈ فی مربع انچ سے زیادہ پریشر کے ساتھ کیچڑ کو تیل کے ٹوٹے ہوئے پائپ میں داخل کیا جائے، اور یہ عمل مسلسل جاری رکھا جائے تا کہ اس کیچڑ کے پائپ سے دوبارہ باہر پھینکے جانے کے باوجود اس کی ایک مناسب مقدار تسلسل کے ساتھ تیل کے اس کنوئیں کی تہہ تک پہنچتی جائے۔ یہ مقام تیل بہنے والے مقام سے بھی بہت نیچے سمندر کی تہہ سے بہت نیچے کھودا گیا تھا۔ تیل کے بہاؤ والے مقام کے قریب برٹش پٹرولیم ادارے کی جانب سے ایک کیمرہ نصب کر دیا ہے اور’ٹاپ کِل‘ پلان پر عمل درآمد کو امریکہ میں باقاعدہ دیکھا جا رہا ہے۔

برٹش پٹرولیم کے پلان کی امریکی حکومت نے باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ برٹش پٹرولیم کے چیف ٹونی ہاورڈ ابھی سے اس کوشش کی کامیابی کے بارے میں پوری طرح پرامید دکھائی نہیں دیتے۔

Flash-Galerie USA Ölpest Golf von Mexiko Küste

خلیج میکسیکو میں بہنے والے تیل سے سمندری حیات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

لیکن وہ ناامید بھی نہیں ہیں۔ ٹونی ہاورڈ کے مطابق اس وقت کوئی بڑا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔ ’ٹاپ کِل‘ کے حوالے سے ماہرین کا خیال ہے کہ کامیابی کا امکان ساٹھ سے ستر فیصد تک ہو سکتا ہے۔ اس پلان کی بظاہر تعریف کی گئی ہے اور اس کو قابل عمل سمجھے جانے کے بعد ہی اس پر عمل شروع کیا گیا ہے۔

زیر سمندرسولہ سو میٹر کی گہرائی میں یہ کام ایک خودکار آبدوز سے کیا جا رہا ہے۔ برٹش پٹرولیم اب تک زیر سمندر بہنے والے تیل کی انتہائی معمولی مقدار کو باہر نکالنے میں کامیاب ہو سکا ہے۔

لاکھوں لٹر تیل سے امریکی ریاست لوئیزیانہ کا ساحلی علاقہ انتہائی زیادہ متاثر ہو چکا ہے۔ سمندری حیات و نباتات کو ناقابل یقین اور ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

تیل کے بہنے کو روکنے کی اب تک کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ امریکی صدر اوباما بھی اس بارے میں خاصے متفکر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ ان کی حکومت تیل بہنے کے عمل کے مکمل طور بند ہونے تک بے سکون رہے گی۔ اس سلسلے میں کل جمعہ کو دوسری مرتبہ وہ خلیج میکسیکو کی ساحلی پٹی کا دورہ کرنے والے ہیں۔ وہ جگہ جہاں سے سمندر میں تیل خارج ہو رہا ہے، امریکی ریاست لوئیزیانہ سے اسی کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس تیل کے بہاؤ کو روکنے کے لئے امریکی صدر نے حکومتی خزانے سے مالی وسائل فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی تھی۔ تازہ ترین یہ ہے کہ امریکی فوج کو خلیج میکسیکو میں بہنے والے تیل کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: مقبول ملک

DW.COM