1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

خلیج مین کا پانی گرم ہوتا ہوا، ’اٹلانٹک کاڈ‘ کے لیے خطرہ

خلیج مین کے پانیوں کے غیر متوقع طور پر گرم ہونے کی وجہ سے ’اٹلانٹک کاڈ‘ نامی نسل کی مچھلیوں کی ایک بڑی تعداد ہلاک ہو چکی ہے۔ محققین نے اس تناظر میں شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے فوری اقدامات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

Deutschland Fischhandel Symbolbild

کاڈ فش میں پائے جانے والے تیل کی وجہ سے اسے اردو میں روغن ماہی بھی کہا جاتا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بتایا ہے کہ امریکا کے شمال مشرقی پانیوں کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، جس کے باعث بحر اوقیانوس کی مین نامی بڑٰی خلیج میں پائی جانے والی سمندری مچھلیوں کی ایک خاص قسم کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ ایک تازہ مطالعے کے نتائج کے مطابق سن 2004 تا 2013ء کے دوران خلیج مین کا پانی .41 فیصد گرم ہوا ہے۔ محققین نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ خلیج مین کا پانی اس عرصے کے دوران دیگر سمندروں کی نسبت 99.9 فیصد کی زیادہ رفتار میں گرم ہوا ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ ماہی گیری کے حوالے سے انتہائی اہم اور اس تاریخی مقام پر کئی برسوں تک مچھلی کے شکار پر پابندی بھی عائد رہی۔ تاہم ’اٹلانٹک کاڈ‘ کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے یہ اقدامات اب ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث کارآمد ثابت نہیں ہو رہے ہیں۔ اس نئی رپورٹ کے مصنف اینڈریو پرشنگ گلف آف مین ریسرچ سینٹر سے وابستہ ہیں۔ اپنی رپورٹ کے اجراء کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہیں کہا کہ خلیج مین کا پانی جس رفتار سے گرم ہو رہا ہے وہ ماضی میں کبھی بھی نوٹ نہیں کیا گیا۔

خلیج مین کے پانیوں کے گرم ہونے کی ایک وجہ گلوبل وارمنگ کو قرار دیا جا رہا ہے لیکن ساتھ ہی ’گلف اسٹریم‘ کے بہاؤ میں تبدیلی بھی اس کی ایک وجہ تصور کی جا رہی ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ اس قسم کی مچھلیوں کے لیے گرم پانی مناسب نہیں ہے جبکہ اس سے نہ صرف ان کا تولیدی عمل متاثر ہو رہا ہے بلکہ چھوٹی مچھیلیاں جوان ہونے سے قبل ہی ہلاک ہو جاتی ہیں۔ کاڈ فش میں پائے جانے والے تیل کی وجہ سے اسے اردو میں روغن ماہی بھی کہا جاتا ہے۔

اینڈریو پرشنگ نے ان مچھلیوں کی حیات کو لاحق ان خطرات کے تناظر میں حکومتی ردعمل کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا، ’’خلیج مین کے پانی کے گرم ہونے کی وجہ سے یہ کاڈ کے لیے موافق نہیں رہے گا۔ ماحولیاتی تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے انتظامی ردعمل بھی کافی سست رہا ہے۔‘‘

Bildergalerie Europäischer Tag der Meere Hochseefischerei Trawler Frankreich

زیادہ شکار بھی ان مچھلیوں کی حیات کے لیے خطرہ تصور کیا جاتا ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے جانوروں کی کئی نایاب اقسام اپنے روایتی ٹھکانوں سے نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ یہ جانور موافق آب و ہوا کے لیے ہجرت کر رہے ہیں۔ محققین کے مطابق اسی لیے خلیج مین کے ٹھنڈے پانیوں کی کاڈ مچھلیاں گزشتہ 45 برسوں سے مزید جنوب کی طرف نقل مکانی کر رہی ہیں۔

کئی ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ زیادہ شکار اور ماحولیاتی تبدیلیاں دونوں ہی ان مچھلیوں کی حیات کے خطرات کا باعث ہیں۔ نیو یارک کی سٹنونی بروک یونیورسٹی کے اسکول برائے سمندری حیات اور ماحولیاتی سائنسز سے وابستہ جینٹ نیائے کہتی ہیں، ’’ہمیں معلوم کرنے کی کوشش میں ہیں کہ ان مچھلیوں کی ہلاکت کی اصل وجہ کیا ہے۔ کیا یہ زیادہ شکار ہے یا ماحولیاتی تبدیلیاں؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں عوامل ہی ان مچھلیوں کے لیے خطرہ ہیں۔‘‘