خلیج فارس میں امریکی موجودگی پر خامنہ ای کی برہمی | حالات حاضرہ | DW | 02.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

خلیج فارس میں امریکی موجودگی پر خامنہ ای کی برہمی

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکا کو خلیج فارس سے نکل جانا چاہیے۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ملکی پارلیمان میں اصلاح پسندوں کو برتری حاصل ہو گئی ہے۔

جہاں ایرانی صدر حسن روحانی مغربی ممالک، بہ شمول امریکا کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں، ملک کے سپریم لیڈر خامنہ ای امریکا اور مغرب کے ارادوں کے ہنوز شاکی ہیں۔ پیر کے روز اساتذہ کے ایک گروپ سے بات چیت کرتے ہوئے خامنہ ای نے کہا کہ خلیج فارس میں امریکی فوجی مشقیں امریکا کے ’غرور‘ کی عکاسی کرتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا، ’’وہ ایک جگہ جمع ہوتے ہیں، سازشیں کرتے ہیں، اور پھر کہتے ہیں کہ ایران خلیج میں فوجی مشقیں نہ کرے۔ کیسی احمقانہ بات ہے! وہ دنیا کے دوسرے کونے سے آ کر یہاں جنگی مشقیں کرتے ہیں۔ وہ یہاں کیا کر رہے ہیں؟ ان کا خلیج میں کیا کام ہے؟ خلیج فارس ہمارا گھر ہے۔‘‘

خامنہ ای کی اساتذہ سے تقریر کے بعض حصے سرکاری ٹی وی پر بھی نشر کیے گئے۔

ایرانی سپریم لیڈر صدر روحانی کی جانب سے مغربی ممالک کے ساتھ تاریخی جوہری معاہدے کے بھی مخالف رہے ہیں۔ گزشتہ برس طے پانے والے اس معاہدے کے بعد ایران پر عائد مغربی اقتصادی پابندیاں نرم ہو رہی ہیں، جس کے بہتر اثرات ملکی معیشت پر پڑنا شروع ہو چکے ہیں۔ ایران کا رابطہ باقی دنیا سےبحال ہو رہا ہے، جس ایک مثال جنوبی کوریا کی صدر کی تہران آمد بھی ہے۔

قدامت پسند حلقے بہرحال امریکی اداروں کے شاکی ہیں اور صدر روحانی کی پالیسیوں کی مخالفت کر رہے ہیں۔ تاہم عوام کی جانب سے اصلاح پسندوں کو پذیرائی حاصل ہو رہی ہے، جس کا ثبوت ملک کے پارلیمانی انتخابات ہیں، جس کا دوسرا دور اتوار کے روز منعقد ہوا۔ مجموعی طور پر اصلاح پسندوں کو پارلیمنٹ میں برتری حاصل ہو چکی ہے، تاہم وہ واضح اکثریت سے اب بھی دور ہیں۔ لیکن اصلاح پسند اپنے ساتھ آزاد امیدواروں کو شامل کر سکتے ہیں۔ انتخابات میں قدامت پسندوں کو شکست ہوئی ہے اور اب پالیمان پر انہیں کنٹرول نہیں رہا ہے۔

اس کے باوجود ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای ملک کی طاقت ور ترین شخصیت ہیں اور ان کے فیصلے حتمی قرار پاتے ہیں۔ تاہم دباؤ ان پر بھی پڑا ہے۔

اس بات کے بھی امکانات ہے کہ ملک کی رہبر کونسل خامنہ ای کی جگہ کسی اور رہنما کو انتخاب کر پائے۔