1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

خلیج عدن میں صومالی قزاقوں کی بڑھتی کارروائیاں

صومالی بحری قزاقوں کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے بعد خلیج عدن میں میں بین الاقوامی ٹاسک فورس تعینات کردی گئی تھی۔ جس نے کئی کارروائیوں میں بحری قزاقوں کو گرفتار کیا اس کے باوجود ان قزاقوں کی کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔

default

جرمن وزیر دفاع فرانز ژوزیف یونگ اپنے دورہ افریقہ کے دوران

بین الاقوامی فورس کی موجودگی کے باوجود خلیج عدن کی سمندری گزرگاہوں سے گزشتہ ہفتے کے اختتام اور موجودہ ہفتے کے آغاز پر ان قزاقوں نے پانچ مختلف بین الاقوامی تجارتی جہازوں کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے، جن میں ایک جرمن بحری جہاز بھی شامل ہے۔

Supertanker von Piraten entführt

پچھلے سال بحری قزاقوں نے سعودی آئل ٹینکر تک کو اغواء کر لیا تھا

انٹرنیشنل میری ٹائم بیورو کے مطابق خلیج عدن میں صومالی قزاقوں نے اس ہفتے کے آغاز پر ایک برطانوی جہاز کے علاوہ تائیوان کی گہرے سمندر میں مچھلیاں پکڑنے والی کشتی کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے جس میں عملے کے 30 افراد موجود ہیں۔ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر اِن قزاقوں نے ایک جرمن تجارتی جہاز کے علاوہ ایک فرانسیسی کشتی اور یمن کے بحری جہازوں پر بھی قبضہ کرلیا تھا۔ اغواء ہونے والی فرانسیسی کشتی پر ایک فرانسیسی جوڑا اور اُن کا بچہ بھی سوار ہے۔

انٹرنیشنل میری ٹائم بیورو کے مطابق صومالی قزاق سالِ رواں کے پہلے تین مہینوں میں آٹھ جہازوں پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئے تھے جبکہ پچھلے چار دنوں میں وہ پانچ جہاز اپنے قبضے میں لے چکے ہیں۔

برطانوی بحری جہاز Malaspina Castle جو کہ اطالوی انتظامیہ کے زیراستعمال ہے اس کے عملے میں مختلف قومیتوں کے لوگ شامل ہیں جن میں سے سولہ کا تعلُق بلغاریہ سے ہے۔

Piraten werden in Somalia abgeführt

گرفتار کیا جانے والا ایک مشتبہ صومالی بحری قزاق

جرمنی کی وزارت خارجہ نے 20 ہزار ٹن وزنی جرمن بحری جہازHansa Stavanger کی صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں اغوا کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہاز کی باز یابی کے لئے ایک کرائسس سینٹر قائم کردیا ہے۔ اغواء ہونے والے جہاز کے چوبیس رکنی عملے میں پانچ جرمن شہری بھی شامل ہیں۔

سمندری جہازوں کی حفاظت پر معمور بین الاقوامی بحری ٹاسک فورس نے ہدایت جاری کی ہے کہ صومالیہ کے قریبی سمندروں میں سفر کرنے والے جہاز اپنی نگرانی میں اضافہ کردیں۔ دوسری طرف صومالی ریاست پنٹ لینڈ نے کہا ہے کہ بحری قزاقی پر قابو پانے کے لئے جب تک مقامی انتظامیہ کی مدد میں اضافہ نہیں کیا جائے گا اس وقت تک اس کے خلاف کارروائی کرنے والی بین الاقوامی بحریہ کی کامیابی مشکل ہے۔

Somalische Piraten in Bassaso

کئی قزاقوں کی گرفتاری کے باوجود ان وارداتوں میں کمی نہیں ہوئی

پنٹ لینڈ کے وزیر دفاع عبدالحئی سید سماتار نے 24 گھنٹوں کے دوران پانچ بین الاقوامی جہازوں کی صومالی قزاقوں کے ہاتھوں اغواء کے بعد ایک خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ خلیج عدن میں بین الاقوامی بحری فوج کی موجودگی کے باوجود قزاقوں کی کارروائیوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔

گزشتہ برس خلیج عدن میں سفر کرنے والے بحری جہازوں پر 130 حملے کئے گئے جس کے نتیجے میں 50 جہاز پر بحری قزاقوں نے قبضہ کرلیا۔ اس وقت بھی کم از کم 17 بحری جہاز ان قزاقوں کے قبضے میں ہیں جن پر 250 کے قریب عملے کے ارکان موجود ہیں۔