1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

خلیجی ملکوں کا خواب: ایک کرنسی

خلیجی ممالک تقریباً ایک دہائی سے ایک کرنسی اور ایک مرکزی مالیاتی بینک پر بات چیت کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن تاحال وہ کسی نتیجے پر پہنچ نہیں پائے ہیں۔

default

خلیجی تعاون تنظیم کا نشان

سعودی عرب، کویت، قطر اور بحرین نے اگلے سال مالیاتی اتحاد قائم کرنے اور مشترکہ کرنسی کے اجرا کو یقینی بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس سلسلے میں چاروں ممالک کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنروں کا اہم اجلاس ہفتہ کے روز ریاست اومان کے دارالحکومت مسقط میں ہوا۔

اجلاس میں عرب امارات اور عمان سے بھی اِس اہم مالیاتی و اقتصادی منصوبے میں دوبارہ شامل ہونے کا کہا گیا۔ یہ دونوں ممالک اس سے پہلے مذاکراتی سلسلے میں شریک تھے لیکن بعد میں علیحدگی اختیار کرگئے۔

مالیاتی امور سے متعلق ان اعلیٰ سطح کے اہلکاروں کی ملاقات میں، مذکورہ چھ خلیجی ممالک کو بذریعہ ٹرین سے منسلک کرنے کے علاوہ مشترکہ اقتصادی و تجارتی پلیٹ فارم قائم کرنے کے زیر التواء معاملات کو بھی حتمی شکل دینے پر بحث ہوئی۔

یورپ کے طرز پر ریلوے نیٹ ورک قائم کرنے کے لئے یہ پچیس ارب ڈالرکا منصوبے شروع کرنے کے لئےتمام چھ ممالک کو برابر کی سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔

Gipfeltreffen des Golfkooperationsrat GCC in Doha

ایک سابقہ سربراہ اجلاس کے شرکاء: فائل فوٹو

1940 کلومیٹر طویل اس منصوبے کی ایک اور خاص بات، قدرے غریب سمجھے جانے والے عرب ملک اومان تک ریل نیٹ ورک پھیلانا بتایاجاتی ہے جو کہ خلیج تعاون کونسل کا رکن بھی نہیں۔ ریل منصوبے کو عملی جامہ پہنانے اور اندرون ملک آمدورفت کے مسائل پر قابو کے لئے انفرادی طور پر ان چھ ممالک میں تقریبا 100 بلین ڈالر لاگت کے مختلف منصوبے پہلے سے ہی جاری ہیں۔ دبئی میں 7.6 بلین ڈالر کے میٹرو ٹرین منصوبے کا افتتاح اس سال ستمبر کو ہوچکا ہے جبکہ ریاض، مکہ اور کویت میں بھی اسی طرز کے منصوبوں پر کام ہورہا ہے۔

میٹنگ کے بعد جاری کردہ ء اعلامیے میں کہا گیا کہ اتفاق رائے طے پائےجانے کے بعد مشترکہ بینک قائم کیا جائے گا اور خطے میں مشترکہ کرنسی رائج کردی جائے گی۔

سعودی عرب، کویت، بحرین، عمان اور قطر، سال دو ہزار ایک میں مشترکہ کرنسی اور مالیاتی اتحاد قائم کرنے پر اصولی طور پر متفق ہوے تھے جس کے لئے سال دو ہزار دس ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ تاہم مالیاتی امور کے ماہرین کے مطابق یہ ہدف حاصل کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

عرب امارات اور عمان کے علاوہ باقی چار خلیجی ممالک نے اس سال جون میں معاملے سے متعلق ایک معاہدے پر دستخط کردئے تھے۔ عرب امارات نے خلیج تعاون کونسل کے مرکزی بینک کے صدر دفتر کے لئے سعودی عرب کے دارلحکومت ریاض کے منتخب ہونے پر ناراضگی ظاہر کی تھی جبکہ عمان کا موقف تھا کہ وہ ابھی معاملے سے متعلق عائد کی گئی شرائط پوری کرنے کے لئے تیار نہیں۔

خلیج تعاون کونسل کے اس اجلاس میں عالمی مالیاتی فنڈ کے سربراہ ڈومینیک سٹراس کہان بھی شریک ہوئے۔ عالمی بینک کے سربراہ نے اس موقع پر کہا کہ آئی ایم ایف خلیجی ممالک کو مالیاتی اتحاد قائم کرنے کے سلسلے میں مکمل تعاون فراہم کرےگا۔ آئی ایم ایف کے سربراہ نےعالمی مالیاتی بحران کے منفی اثرات سے خطے کو قدرے محفوظ رکھنے پر خلیجی ممالک میں رائج کردہ مالیاتی پالیسیوں کی بھی تعریف کی۔

مشترکہ کرنسی کے نام پر بھی ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ دینار کے علاوہ خلیجی نام پر بحث جاری ہے۔ کرنسی کے نام کے حوالے سے زیادہ امکانات خلیجی کے دکھائی دے رہے ہیں۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارت کی ریاست دبئی میں افراط زر کی بڑجتی شرح بھی مشکل معاملہ ہے۔ ایسی صورت حال کویت کی بھی ہے۔