1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

خلیجی ملکوں سے تعاون جرمنی کے لئے اہم، میرکل

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے مطابق جرمنی نہیں چاہے گا کہ تیزی سے اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن خلیجی ممالک سے اقتصادی شراکت داری کے مواقع ہاتھ سے جانے دے۔

default

جرمن سربراہ حکومت میرکل نے یہ بات خلیجی ممالک کے اپنے چار روزہ دورے کے آخری روز قطر کے دارالحکومت دوحہ میں کہی۔

اس دورے کے دوران انگیلا میرکل متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور بحرین بھی گئیں۔ جرمن چانسلر نے تسلیم کیا کہ ایشیائی ممالک کے مقابلے میں جرمنی اس خطے میں تجارتی تعلقات اب تک زیادہ تیزی سے نہیں بڑھا پایا۔ ان کے بقول اس سمت میں پیش رفت نہ کرنے کا مطلب ہوگا کہ آئندہ بیس سالوں میں جرمنی اس خطے میں دیگر ممالک کا اقتصادی مقابلہ نہیں کر سکے گا۔

اس دورے کے دوران اس خطے سے جڑے بین الاقوامی سیاسی امور پر بھی جرمن چانسلر نے اپنے مذاکراتی ساتھیوں کے ساتھ بات چیت میں برلن کے مؤقف کی بھرپور وکالت کی۔ انگیلا میرکل نے مشرق وسطیٰ امن مذاکرات کی جلد بحالی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ایران پر زور دیا کہ اگر وہ اپنے متنازعہ جوہری پروگرام کے حوالے سے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مزید شفافیت سے اور کھل کر بات کرے تو اس تنازعے کے حل کے جملہ امکانات ابھی بھی موجود ہیں۔

Merkel / Abu Dhabi / Vereinigte Arabische Emirate

جرمن چانسلر کے حالیہ دورے میں دو طرفہ تجارت کے متعدد معاہدوں پر دستخط ہوئے

یورو زون کی مشترکہ کرنسی یورو سے جڑے خدشات کے متعلق انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یورپ کی سب سے بڑی معیشت کے طور پر جرمنی ہر صورت میں یورو کے استحکام کے لئے ہر وقت کوشاں رہے گا۔

چانسلر میرکل نے کہا: ’’جیسا کہ ہم نے ماضی میں بھی مشترکہ کرنسی سے بہت فائدہ اٹھایا ہے، تو ہم اس بات کو بھی یقینی بنائیں گے کہ اس کی قدر مستحکم رہے۔‘‘

قطر کے فن اسلامی کے عجائب گھر میں ایک تقریب کے شرکاء سے اپنے خطاب میں وفاقی جرمن چانسلر نے یورپی شہریوں پر بھی زور دیا کہ وہ اسلامی تہذیب کا مطالعہ کریں۔ ’’ہم یورپ والے اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ صدیوں پہلے عرب دنیا سائنس اور فن کے میدان میں ہم سے بہت آگے تھی۔‘‘

جرمن مہمان نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ بعض مسلمان جرمن معاشرے میں اپنے لئے صف اول میں جگہ بنا چکے ہیں، بشمول ان کھلاڑیوں کے جو جرمنی کی قومی فٹ بال ٹیم کی طرف سے کھیلتے ہیں۔ انگیلا میرکل نے یورپی اور مسلمان معاشروں میں مذہبی رواداری کے فروغ اور اختلاف رائے کے اصولی طور پر تسلیم کئے جانے کی اہمیت بھی اجاگر کی۔

Merkel in Abu Dhabi Vereinigte Arabische Emirate

سیاسی طور پر جرمن چانسلر کا تعلق کرسچئن ڈیموکریٹک یونین نامی قدامت پسند پارٹی سے ہے۔ جرمنی میں ان دنوں ملکی آبادی کے قریب پانچ فیصد حصے پر مشتمل اس یورپی ملک میں رہائش پذیر مسلمانوں کے ساتھ مکالمت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ CDU البتہ مسلم اکثریتی آبادی والے ملک ترکی کی یورپی یونین میں باقاعدہ رکنیت کی اس بنیاد پر مخالفت کرتی ہے کہ زیادہ تر یورپی اقدار کی بنیاد مسیحی مذہبی اور اخلاقی اقدار پر ہے۔

خلیجی ممالک کے اپنے دورے کے آخرے روز جرمن چانسلر نے بحرین کے وزیر اعظم خلیفہ بن سلمان علی خلیفہ سے ملاقات بھی کی۔ انگیلا میرکل نے بحرین حکومت کو پیش کش کی وہ توانائی کے قابل تجدید ذرائع کے استعمال سے متعلق جرمنی کے تجربے سے فائدہ اٹھائے۔

انہوں نے یورپی یونین اور خلیجی تعاون کی کونسل GCC کے مابین آزادانہ تجارت کے معاہدے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انگیلا میرکل نے یہ بھی کہا کہ خطے میں جرمنی کی طرف سے مزید سرمایہ کاری افغانستان، پاکستان اور یمن میں سلامتی کی صورتحال میں بہتری سے جڑی ہوئی ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: مقبول ملک

DW.COM