1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

'خلیجی عرب ریاستیں ٹرمپ کی آمد سے خوش‘

خلیجی عرب ریاستیں وائٹ ہاؤس کا سربراہ بدلنے پر کھلم کھلا تو نہیں لیکن خوشی کا اظہار کر رہی ہیں۔ اس کی وجہ  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خطے میں اُن کے حریف ملک ایران کا مخالف ہونا ہے۔

Wshington Amtseinführung Donald Trump (Getty Images/W. McNamee)

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عرب خلیجی ریاستیں ڈونلڈ ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس کا سربراہ بننے سے خوش نظر آتی ہیں

تجزیہ کاروں کے مطابق دنیا بھر میں جہاں ایک طرف بہت سے ممالک نے ٹرمپ کی تقریبِ حلف برداری کے خطاب کو تشویش سے سنا وہیں خلیجی عرب ریاستیں نئے امریکی صدر کی جانب سے کافی پُرامید نظر آتی ہیں۔ خلیجی حکمران ٹرمپ میں  ایک ایسا مضبوط صدر دیکھ رہے ہیں جو خطے میں امریکا کے کردار کے حوالے سے اس کے اسٹریٹیجک رول کو مزید مستحکم کرے گا۔

خاص طور پر سعودی عرب باراک اوباما کی رخصتی سے مطمئن دکھائی دیتا ہے۔ اس کی وجہ غالباﹰ سعودی عرب کے نزدیک سن 2015 میں ایران کے جوہری پروگرام کا اثر کم کرنے کے لیے معاہدے کو ریاض کے ساتھ امریکی اتحاد بنانے کے مقابلے میں اوباما حکومت کا زیادہ اہمیت دینا ہے۔

 امریکا اور سعودی عرب کے درمیان تعلق مشرقِ وسطی کی سلامتی کے ستون کے طور پر دیکھا جاتا ہے تاہم اس تعلق کو سن 2011  میں ’عرب بہار‘ کے بعد سے ایران کی طرف امریکی جھکاؤ کے بعد نقصان پہنچا ہے۔

 امریکا اور خلیجی ممالک کے مابین شام کے مسئلے پر اُس وقت  سے کشیدگی  ہے جب سابق صدر باراک اوباما نے شامی صدر بشار الاسد کے خلاف بر سرِ پیکار باغیوں کو امداد دینے کے عرب ممالک کے مطالبے کو مسترد کر دیا تھا۔ صدر بشار الاسد ایران اور روس کی حمایت کے باعث مضبوط ہوئے۔

 ایک تجربہ کار سعودی سیاسی  مبصر عبدالرحمان الراشد کے مطابق ،’’ ٹرمپ اس قسم کے انسان دکھائی نہیں دیتے جو ایران یا کسی بھی دوسرے ملک کی جانب جھکاؤ ظاہر کریں گے۔‘‘

چند ‌خلیجی عربوں کے خیال میں ریاض اور تہران میں جاری  اثر و رسوخ کی جنگ کو، جو شام، یمن اور بحرین میں لڑی جا رہی ہے، اوباما کی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ترجیح کو خوش آمدید نہیں کہا گیا۔

DW.COM