1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

خلیجی ریاست بحرین میں پاکستانی نژاد شہری

بحرین میں پاکستانی شہری مسلح شیعہ مظاہرین کے نشانے پر ہیں۔ ماناما سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مارچ کے دوسرے ہفتے سے صورتحال سنگینی کی جانب گامزن ہے۔

default

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایسے ہی ایک پاکستانی شہری جاوید اقبال کی کہانی بیان کی ہے، جو روزی روٹی کمانے بحرین آیا تھا اور اب جان بچاکر پاکستان لوٹنے کا خواہش مند ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اب تک ایک پاکستانی کی ہلاکت ہوئی ہے جبکہ متعدد کو لوٹا اور مارا پیٹا گیا ہے۔

13 مارچ کی ایک شب کو یاد کرتے ہوئے جاوید اقبال نے بتایا کہ وہ اور ان کے دیگر ساتھی سو رہے تھے، جب تلواروں اور دیگر تیز دھار ہتھیاروں سے لیس مظاہرین ان کے گھر میں گھس آئے:’’جیسے ہی انہیں پتہ چلا کہ ہم پاکستانی ہیں، تو انہوں نے ہمیں مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔ ہم نے انہیں بتایا بھی کہ ہم مزدور ہیں، پولیس اہلکار نہیں۔ پھر بھی وہ مارتے رہے اور جاتے وقت گھر کو نذر آتش کر دیا۔‘‘

جاوید اقبال اور ان کے 300 دیگر ساتھی پاکستانی کلب میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور باہر جانے کی ہمت نہیں کر پا رہے۔ ان قدرے کم پڑھے لکھے مزدوروں کی ترجمانی کرتے ہوئے ایک تیسرے پاکستانی ملک فیاض نے بتایا کہ بحرین کی حکومت نے پولیس فورس میں شامل پاکستانی شہریوں کو مظاہرین سے نمٹنے کے لیے سب سے آگے رکھا ہوا ہے، اسی وجہ سے ان کے خلاف نفرت زیادہ ہے۔

Demonstranten in Bahrain Manama Militär schhießt auf Demonstranten NO FLASH

بحرین میں ایک مظاہرے کا منظر

واضح رہے کہ شیعہ اکثریتی آبادی والے ملک بحرین میں سُنی عربوں اور پاکستانیوں کو لا کر آباد کیا گیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 50 ہزار سے زائد پاکستانی بحرین میں آباد ہیں۔ اے ایف پی نے متعدد دیگر پاکستانی شہریوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ان میں خوف کا عنصر نمایاں ہے اور بیشتر اپنے کفیل سے پاسپورٹ حاصل کر کے پاکستان لوٹنے کے خواہش مند ہیں۔

بحرین میں شیعہ دھڑے کی نمائندگی کرنے والے اتحاد الوفاق کے ایک رکن پارلیمان مطر ابراہیم مطر کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان اور دیگر ممالک کے بہت سے شہریوں کے بارے میں یہ خیال پایا جاتا ہے کہ اُنہوں نے غالباً فوج میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے مقررہ وقت سے بہت پہلے ہی بحرین کی شہریت حاصل کی ہے تاہم اُن کے بقول دیگر بہت سے لوگ بلاشبہ بہت سے قانونی تقاضے پورے کرنے اور مقررہ وقت گزارنے کے بعد یہاں کے شہری بنے اور اُنہوں نے بحرین کی خدمت بھی کی ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: امجد علی

DW.COM