1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

خلیجی ریاستیں عراق سے امریکی فوجی انخلاء کے بعد ایران کے اثرو رسوخ سے خائف

مبصرین کے مطابق عراق سے امریکہ کے فوجی انخلاء کے بعد خلیج میں طاقت کا ایک خلاء پیدا ہو جائےگا جس سے اقتصادی اور سٹریٹیجک اہمیت کے حامل اس خطے میں ایران کے اثر و رسوخ کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

default

گلف ریسرچ سنٹر کے چیئرمین عبدالعزیز ساغر نے بھی اسی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور خلیجی ممالک کے مفادات مشترک ہیں اور وہ سکیورٹی معاہدوں پر بھی کاربند ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کی اس خطے میں موجودگی اور دفاعی قابلیت نے ان عرب ممالک کو سلامتی اور استحکام کا احساس دلایا ہے اور اب یہاں سے امریکی دستوں کے انخلاء کے بعد عراق میں ایران کا فوجی اور انٹیلی جنس اثرو رسوخ بڑھ سکتا ہے۔

Barack Obama und Nouri al-Maliki

امریکی حکام نے دلیل دی ہے کہ ایران عراق میں اپنا اثر و رسوخ قائم نہیں کر سکتا

عراق میں نو برس کی موجودگی کے بعد امریکہ اپنے بقیہ فوجی دستوں کے انخلاء کا مرحلہ رواں برس کے اختتام تک مکمل کر لے گا۔ موجودہ سال عرب دنیا کے لیے نمایاں تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوا ہے ۔ مصر، تیونس اور لیبیا میں تین مضبوط آمروں کے ادوار کا خاتمہ ہوا تاہم ان انقلابی تبدیلیوں کے نتیجے میں خطے میں فرقہ بندی اور مذہبی تقسیم بھی پروان چڑھی ہے۔ خلیجی عرب ممالک اس بات پر تشویش میں مبتلا ہیں کہ اب ایران عراق میں شیعہ حکومت اور اس کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر دیگر عرب ریاستوں بشمول سعودی عرب اور بحرین جہاں سنی حکومت ہے، کے ساتھ کیا رویہ اپناتا ہے۔

Irak Truppen Tikrit

کسی بیرونی جارحیت کا مقابلہ عراقی سکیورٹی فورسزکے بس کی بات نہیں

ساغر کے مطابق عراق کو ایران سے براہ راست کوئی خطرہ نہیں ہے البتہ ایران کی حریف دیگر سنی خلیجی ریاستیں ان حالات سے متاثر ہو سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کے مشترکہ مذہبی روابط بھی ہیں اور دونوں ممالک نے عالمی اور علاقائی دباؤ کو نظر انداز کرتے ہوئے شام کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے بھی یکساں مؤقف اپنایا ہے۔ اسی طرح اگر سیاسی اعتبار سے جائزہ لیں تو امریکی انخلاء کے بعد عراق میں سعودی عرب اور ترکی کے مکمل طور پر غیر مؤثر ہونے سے ایران کے ساتھ روابط کا فروغ عراق کے لیے بھی ضروری تصور کیا جائے گا۔

Iran IAEA

ایران اپنے اقدامات کے باعث باقی دنیا سے کٹ کر علیحدگی کی جانب بڑھ رہا ہے

دوسری طرف امریکی حکام نے اس حوالے سے دلیل دی ہے کہ ایران عراق میں اپنا اثر و رسوخ قائم نہیں کر سکتا کیونکہ موجودہ حالات میں ایران اپنے اقدامات کے باعث باقی دنیا سے کٹ کر علیحدگی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ امریکہ کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائیزر ٹام ڈانیلن نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ خطے میں اقتدار کا توازن ایران کے موافق نہیں ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران اور عراق اپنے مستقبل کے حوالے سے الگ الگ نظریات کے حامل ممالک ہیں۔ دوسری جانب 2003ء میں امریکہ کی آمد کے بعد سیاسی عدم استحکام اور خونریز فرقہ ورانہ فسادات کے شکار عراق میں مقامی سکیورٹی فورسز ملک کا کنٹرول سنبھالنے سے خوفزدہ ہیں۔

امریکہ کے آفس آف سکیورٹی کوآپریشن عراق کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل رابرٹ کیسلن نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو اس حوالے سے بتایا کہ گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران عراقی سکیورٹی فورسز نے اندرونی خطرات کا مقابلے کرنے کی صلاحیت تو حاصل کر لی ہی لیکن کسی بیرونی جارحیت کا مقابلہ ان کے بس کی بات نہیں ہے۔ عراقی فوج کے سربراہ بابک زبیری نے بھی تسلیم کیا ہے کہ عراق شاید اپنی سرحدوں کی حفاظت نہ کر سکے۔ سیاسی تجزیہ کار سمیع النصف کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ امریکی فوجوں کے انخلاء کا وقت مناسب نہیں ہے اور اس اقدام سے خطے کو درپیش سیاسی اور فرقہ ورانہ چیلنجز مزید شدت اختیار کر جائیں گے۔

رپورٹ: شاہد افراز خان

ادارت: امجد علی

DW.COM