1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

خلیجی ریاستوں کی تجاویز یمن کی اپوزیشن کے سامنے

یمن کی سیاسی قیادت علی عبداللہ صالح کو اقتدار چھوڑنے پر تیار کرنے کے لیے خلیجی ریاستوں کی تجاویز کا جائزہ لے رہی ہے۔ اس بات کا اعلان وزیر خارجہ ابو بكر القربی نے کیا ہے۔

default

یمن کے سرکاری خبررساں ادارے کے مطابق وزیر خارجہ ابوبکر القربی نے حالیہ سیاسی بحران کے حل کے لیے خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کی کوششوں کا خیر مقدم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی بھی قدم قابل تحسین ہے، جو یمن کے آئین کے مطابق ہو اور اس سے کسی حل کے تلاش کا حقیقی آغاز دکھائی دیتا ہو۔

قبل ازیں الجزیرہ ٹیلی وژن کے مطابق وزیر اطلاعات Abdu Al-Janadi نے جی سی سی کے اقدام کو غیر جمہوری قرار دیا تھا۔

قطر کے وزیر اعظم حمد بن جاسم الثانی کا کہنا ہے کہ جی سی سی صالح اور اپوزیشن کے ساتھ معاہدے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ’ہمیں امید ہے کہ ہم کوئی ایسا معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے، جس کے بعد صالح اقتدار چھوڑ دیں گے‘۔

یمن کی اپوزیشن کے ترجمان محمد قحطان نے جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو بتایا کہ جی سی سی نے صالح کی جانب سے اقتدار نائب صدر عبده ربه منصور کو منتقل کرنے کی تجویز دی ہے۔

Ali Abdullah Salih

یمن کے صدر علی عبداللہ صالح

انہوں نے بتایا کہ صالح کو کسی مقدمے کا سامنا کرنے سے استثنیٰ دیے جانے اور متحدہ حکومت کے قیام کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

تاہم قحطان نے یہ اشارہ نہیں دیا کہ اپوزیشن یہ تجاویز قبول کرے گی، یا نہیں۔ یاد رہے کہ یمن کے صدر عبداللہ صالح نے قبل ازیں اپنے ہاں کے سیاسی بحران میں جی سی سی کی ثالثی کا خیر مقدم کیا تھا۔

جمعرات کو بھی یمن میں حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔ تعز میں زیادہ بڑے مظاہرے دیکھے گئے۔ طبی ذرائع کے مطابق وہاں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں تین افراد زخمی بھی ہوئے۔ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ صنعاء اور تعز سمیت مختلف شہروں میں جمعہ کو وسیع پیمانے پر حکومت مخالف مظاہرے ہوں گے۔

رپورٹ: ندیم گِل/ خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس