1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

خلیجی ریاستوں میں تارکین وطن کی مشکلات

عالمی اقتصادی بحران نے ملازمت کے غرض سے خلیجی ریاستوں میں موجود تارکین وطن کو انتہائی مشکل حالات سے دو چار کر دیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر افراد کا تعلق جنوب ایشیائی ممالک سے ہے۔

default

دبئی سے بڑی بڑی کمپنیوں کے بند ہونے یا کاروبار سمیٹنے کی وجہ سے یہ افراد یا تو بے روزگار ہوگئے ہیں یا پھر ان کی تنخواہیں اتنی کم کر دی گئی ہیں کہ وہ شہر میں رہنے کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ ساتھ ہی وہ ان حالات میں اپنے اپنے ملکوں کو واپس لوٹ بھی نہیں سکتے۔ ملازم پیشہ یہ تارکین وطن افراد شہروں سے باہر چلچلاتی دھوپ میں رہنے پر مجبور ہیں اور ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ ان کےپاس کھانے کے لئے چاول کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔

بھارت سے آئے ہوئے موہن بھی ایسے ہی افراد میں سے ایک ہیں۔ وہ دبئی سے تقریباً 80 کلومیٹر دور رہائش پذیر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ بری طرح پھنس چکے ہیں کیونکہ ان کے پاس پاسپورٹ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاسپورٹ ہوتا بھی تو وہ بھارت واپس نہ جاتے کیونکہ ان گھروالوں کو ان سے بہت امیدیں وابستہ ہیں اور اگر انہیں ماہانہ رقم نہ بھیجی گئی تو ان کا کاروبار زندگی رک جائے گا۔ موہن کے بقول ان کے پاس ایک درہم بھی نہیں ہے اسی وجہ سے وہ دبئی سے باہر رہنے پر مجبور ہے۔ وہ جس کمپنی میں کام کرتےتھے وہ دو ماہ پہلے بند ہو گئی۔

Burj Dubai

بیشتر افراد شہر سے باہر رہائش اختیار کرنے پر مجبور

کمپنیوں کے بند ہونے کے ساتھ ہی ملازمین کے لئے بنائے گئے رہائشی علاقوں میں بھی مسائل میں اضافہ ہو گیا۔ بہت سے افراد تو ان ’ورک کیمپس‘ کو چھوڑ کر مختلف علاقوں میں کوچ کر گئے لیکن بہت سے ابھی بھی انہی کیمپس میں رہ رہے ہیں۔ موہن نے بتایا کہ وہ جس ’ورک کیمپ‘ میں رہتا ہے وہ کمپنی نے 350 ملازمین کے لئے بنایا تھا۔ اب کمپنی بند ہونے کے بعد نا تو وہاں بجلی ہے اور نہ ہی گیس۔ موہن کے بقول ریگستان کی شدید گرمی میں ایئر کنڈیشن کے بغیر وہاں روز و شب گزارنا ایک سزا سے کم نہیں۔

شارجہ کے حالات بھی اس سے کچھ الگ نہیں ہیں۔ متحدہ عرب امارات کو انہی وجوہات کی بناء پر انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا بھی ہے۔ ان کے بقول متحدہ عرب امارات کے قانون کے تحت ملازمین کو وقت پر تنخواہ دینا اور ان کے پاسپورٹ تحویل میں نہ رکھنا کمپنی کی ذمہ داری ہے تاہم بہت سے کمپنیاں اس قانون کی دھجیاں اڑا رہی ہیں اور انہیں کچھ بھی نہیں کہا جا رہا۔ ملازمین کو وقت پر تنخواہ توکجا کسی قسم کی سہولت بھی حاصل نہیں ہے۔ متحدہ عرب امارات میں تارکین وطن ملازمین کے امور کی ماہر ابتسام الکتبی کہتی ہیں کہ حکومت اس استحصال کو روکنے کی کوششیں تو بہت کر رہی ہیں تاہم اس پر مکمل قابو پانا نا ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کمپنیاں تنخواہیں براہ راست ملازمین کے اکاؤنٹ میں بھیجیں تو اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

اسی حوالے سے جب متحدہ عرب امارات کی وزارت محنت سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ جون کے ماہ میں وزارت کی جانب سے تقریباً پندرہ سو افراد کو تنخواہوں کے ساتھ ان کے وطن واپس بھیجا گیا ہے۔ لیکن موہن اور اس کے ساتھی کئی مہینوں سے متحدہ عراب امارات کی وزارت محنت اور بھارتی سفارت خانے کے تعاون کا انتظار کر رہے ہیں۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس

ملتے جلتے مندرجات