1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

خلا کی وسعتوں میں جھماکے

حال ہی میں کائنات میں اب تک سب سے زیادہ دوری پر ہونے والے روشنی کے ایک جھماکے کی تصاویر حاصل کی گئی ہیں۔ زمین سے تیرہ بلین نوری سال کے فاصلے پر ہونے والے اس جھماکے کے بارے میں سائنسدان ان دنوں کھوج لگا رہے ہیں۔

default

کائنات میں ایسے جھماکوں کا ایک مسلسل عمل جاری ہے

اِس شدید دھماکے کی یہ تصاویر حال ہی میں لندن کے ہاورڈ سمتھسونین سینٹر برائے فلکیاتی طبیعات کے علاوہ برطانوی اور امریکی ماہرین فلکیات نےلی ہیں۔ خلا کی وسعتوں میں ہونے والے اس طرح کے روشی کے جھماکوں کو گاما رے برسٹس کہا جاتا ہے۔ یہ جھماکے خلا میں اربوں نوری سال کے فاصلے پر ہونے والے بہت بڑے جسموں یا ستاروں کے آپس میں ٹکرانے کے نتیجے میں ہوتے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ تصاویر زمین سے 13 ارب نوری سال کے فاصلے پر ہونے والے دھماکے کی ہیں۔

یہ فاصلہ کتنا زیادہ بنتا ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ روشنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتی ہے۔ اس حساب سے روشنی ایک دن میں تقریبا 17 کھرب میل کا سفر طے کرتی ہے اور ایک نوری سال کا مطلب وہ فاصلہ ہے جو روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے۔

اس دھماکے کو نہ صرف ہوائی اور دیگر زمینی فلکیاتی مراکز میں ریکارڈ کیا گیا بلکہ امریکی خلائی تحقیقی ادارے ناسا کے Swift نامی مصنوعی سیارے نے بھی اس کی تصاویر لیں۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ واقعہ تب پیش آیا تھا جب کائنات کی عمر صرف 630 ملین سال تھی جوکہ اندازہ لگائی گئی موجودہ عمر کا صرف بیسواں حصہ بنتا ہے۔

ہاورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر اور اس دھماکے کے فاصلے کا تعین کرنے والی اولین ٹیم کے سربراہ Edo Berger کے مطابق وہ کئی دہائیوں سے اس طرح کے عظیم واقعے کی تلاش میں، خلا میں ہونے والے گاما ریز برسٹس کو ریکارڈ کر رہے تھے۔

پینسلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی کے شعبہء فلکیاتی طبیعات کے ڈیرک فوکس کے مطابق ممکنہ طور پر یہ دھماکہ بہت ہی بڑے ستاروں کے ٹکرا کر فنا ہونے کا نتیجہ ہے۔

اس سے قبل سب سے زیادہ دوری سے ریکارڈ کیا جانے والے دھماکہ یا گاما رے برسٹ ستمبر دو ہزار آٹھ میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اور اس کا زمین سے فاصلہ 190 ملین نوری سال تھا۔