1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

’خلانورد پہلی مرتبہ خلا میں اُگائی گئی سبزی کھائیں گے‘

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن ISS پر موجود خلانورد انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ آج وہ سبزیاں کھائیں گے، جنہیں خلا ہی میں اگایا گیا ہے۔ خلا میں سبزیاں اُگانے کے تجربے کو "Veg-01" کا نام دیا گیا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق اس تجربے کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ آیا خلا میں کھانے پینے کا سامان پیدا کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق طویل فاصلے کی مسافتوں میں خوراک کی خلا ہی میں پیداوار ایک انتہائی اہم شے ہے۔ مستقبل میں مریخ کے سفر کے لیے بھی خلا میں اگائی گئی سبزیاں خلانوردوں کے لیے ایک اہم سہارا ہوں گی۔ بین الاقوامی اسپیس اسٹیشن پر 15 ماہ قبل سلاد کے بیج بھیجے گئے تھے، جنہیں جولائی میں بویا گیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ جولائی میں بوئے جانے والے سلاد کے ان بیجوں سے بہت تیزی سے اس سبزی نے نمو پائی۔

کھانے سے قبل تاہم خلانوردوں کو سلاد کے یہ پتے سِٹرِک ایسڈ یا لیموں کے رس کے حامل محلول سے دھونے کے بعد استعمال کریں گے۔

Shimizu Corporation Japanische Baufirma plant Unterwasserstadt

خلا میں سبزیاں اگانے سے طویل فاصلوں کے لیے خلانوردوں کو خوراک کے مسئلے سے نجات مل جائے گی

بتایا گیا ہے کہ اس سبزی کے پتے کھا لیے جائیں گے، جب کے نِچلا حصہ زمین واپس بھیجا جائے گا، جس کا جائزہ لیا جائے گا۔ یہ بات یاد رہے کہ خلا میں سبزیاں اگائے جانے کے تجربات پہلے بھی ہو چکیں ہیں، تاہم یہ پہلا موقع ہو گا کہ خلا میں اگائی جانے والی غذا خلا ہی میں استعمال بھی ہو گی۔

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا سے وابستہ خلانورد کیل لِنڈگرین نے گزشتہ روز پکچر شیئرنگ ویب سائٹ انسٹاگرام پر ایک تصویر پوسٹ کی تھی، جس میں اس سلاد کے ہرے اور گلابی رنگ کے پتے نظر آتے تھے۔ اس تصویر کے ساتھ انہوں نے لکھا تھا، ’آئی ایس ایس پر لذیذ ترین کھانا ویجی ہے۔ نہایت خوش کن لمحہ ہے۔ کل انہیں کھانا ہے، تو دُکھ سا ہو رہا ہے۔‘

خلا میں سبزیاں اگانے کے لیے ایک خصوصی ’ویجی سسٹم‘ بنایا گیا ہے، جس میں نیلی، سبز اور سرخ LED بتیاں لگی ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق سرخ اور نیلے رنگ کی ایل ای ڈی سے روشنی کے زیادہ اخراج کی وجہ سے سلاد کا رنگ گلابی دکھائی دے رہا ہے۔ خبر رساں اداروں کا کہنا ہے کہ اس سلاد کو کھانے کے لیے خلانوردوں کو لبھانے کے لیے سبز ایل ای ڈیز کی تعداد میں کچھ اضافہ کیا جائے گا، جس سے سلاد کے یہ پتے زیادہ سبز دکھائی دیں گے۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ خلا میں تازہ سبزیاں استعمال کی گئیں تو اس کی غذائی افادیت کے ساتھ ساتھ خلانوردوں کی نفسیاتی صحت پر بھی نہایت اچھے اثرات پڑیں گے۔ یہ بات اہم ہے کہ خلانوردوں تک تازہ سبزیاں اور پھل مثلاﹰ گاجریں اور سیب ہر سپلائی کے ساتھ پہنچائے جاتے ہیں، تاہم ان کی مقدار محدود ہوتی ہے اور انہیں فوری طور پر کھانا ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خلا میں کیے جانے والے ان تجربات کی روشنی میں زمین پر بھی خوراک پیدا کرنے کی تکنیکس کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔