1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

خلائی ملبہ، اسپیس پروگراموں کے لیے شدید خطرہ

خلا میں موجود ملبہ خلائی جہازوں کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے اور یہ مسئلہ دن بدن بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ یورپی خلائی ایجنسی نے اس مسئلے پر بات چیت کرنے کے لیے ايک بین الاقوامی کانفرنس بلا لی ہے۔

Space Debris / Welraumschrott (NASA)

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اِس وقت زمین کے مدار میں لاکھوں  فالتو ٹکڑے ہیں

خلا میں  بے شمار کاٹھ کباڑ  موجود ہے جس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اِن بیکار اڑتے پھرتے ٹکڑوں اور اشیاء کو مختلف ملکوں کے خلائی مشنز کے راستے کی رکاوٹ خیال کیا جاتا ہے۔ خلا میں پایا جانے والا يہ ملبہ ایک ایسا بڑھتا ہوا مسئلہ ہے جسے سائنسدان تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

بے آباد مصنوعی سیارے، تباہ ہو جانے والے خلائی راکٹوں کی باقیات اور ایسے ہی بے کار ہو جانے والے لاکھوں چھوٹے چھوٹے اجسام نہ صرف خلائی جہازوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں بلکہ اِن کو تباہ بھی کر سکتے ہیں۔ یورپی خلائی ایجنسی یا ’ای ایس اے‘ کے اسپیس ڈبری آفس کے سربراہ ہولگر کریگ کا کہنا ہے،’’ مستقبل میں خلا میں اجسام کے بیچ ایسے ٹکراؤ میں مزید اضافہ ہو گا۔‘‘

خلائی ملبے سے اب تک 250 دھماکے اور رکاوٹیں پیدا ہو چکی ہيں۔ ارد گرد ایسے 18000 بڑے ٹکڑے موجود ہیں جن کا سسٹم کے ذریعے پتہ لگایا جانا باقی ہے۔ تاہم خلا میں موجود چھوٹے حجم کے اجسام بھی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ تخمینوں سے پتہ چلتا ہے کہ خلائی ملبہ قریب 750،000 ایسے چھوٹے اجسام کی صورت میں بھی موجود ہے جن کا قطر ایک اور دس سینٹی میٹر کے درمیان ہے۔

ممکنہ طور پر 40،000 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے حرکت کرنے والے یہ مختصر اجسام  خلا میں اگر کسی اور جسم سے ٹکرا جائیں، تو ایک دستی بم پھٹنے جتنی فورس پیدا کر سکتے ہیں۔

خلائی ملبے کے مسئلے پر بلائی جانی والی ساتویں یورپی کانفرنس جرمنی کے شہر ڈارم اشڈٹ میں قائم ’ای سی اے مشن کنٹرول‘ کی عمارت میں 18 سے اکیس اپریل تک جاری رہے گی جہاں شرکاء اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کريں گے۔

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اِس وقت زمین کے مدار میں لاکھوں  فالتو ٹکڑے ہیں، جن کا تعلق پرانے اور تباہ ہو جانے والے خلائی جہازوں اور بالائی خلائی علاقے سے گرنے والے ٹکڑوں سے ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ زمینی مدار میں اڑتے پھرتے یہ ٹکڑے مستقبل کے خلائی پروگراموں کے لیے شدید خطرے کا باعث ہو سکتے ہیں۔

DW.COM