1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

خلائی مخلوق سے رابطے کا پروگرام معطل

ہماری زمین سے باہر کی کسی مخلوق سے کسی ممکنہ رابطے کا کھوج لگانے والا پروگرام امریکی بجٹ میں کمی کی وجہ سے روک دیا گیا ہے۔

default

خلائی مخلوق کی طرف سے کسی ممکنہ رابطے کا کھوج لگانے کے لیے 1984ء میں ایک ادارہ قائم کیا گیا تھا جسے ’سرچ فار ایکسٹرا ٹیرسٹریل انٹیلیجنس‘ (SETI) انسٹیٹیوٹ کا نام دیا گیا تھا۔ اس ادارے کی طرف سے جاری کردہ ایک خط کے مطابق فنڈز کی کمی کی وجہ سے ایسے کسی رابطے کا پتہ لگانے کے لیے قائم کی گئی ’ایلن ٹیلی اسکوپ ایرے‘ (ATA) کو غیرمعینہ مدت کے لیے بند کریا گیا ہے۔

امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان فرانسسکو کے شمال میں واقع ’ہیٹ کریک ریڈیو آبزرویٹری‘ (HCRO)میں نصب بڑی بڑی ڈشوں پر مشتمل یہ ریڈیو ٹیلی اسکوپ ہمارے سیارہ زمین سے باہر سے آنے والے ریڈیوسگنلز پر رکھتی تھیں۔ ATA کی مالیت 50 ملین امریکی ڈالرز ہے۔

خلائی مخلوق کی طرف سے کسی ممکنہ رابطے کا کھوج لگانے کے لیے 1984ء میں ’سرچ فار ایکسٹرا ٹیرسٹریل انٹیلیجنس‘ نامی ادارہ قائم کیا گیا تھا

خلائی مخلوق کی طرف سے کسی ممکنہ رابطے کا کھوج لگانے کے لیے 1984ء میں ’سرچ فار ایکسٹرا ٹیرسٹریل انٹیلیجنس‘ نامی ادارہ قائم کیا گیا تھا

SETI کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ٹام پیئرسن کی طرف سے جاری کردہ خط کے مطابق ’ہیٹ کریک ریڈیو آبزرویٹری‘ کے لیے فنڈز میں کمی کردی گئی ہے، جس کی وجہ سے ATA کے آپریشن کو اسی ہفتے سے روک دیا گیا ہے۔ HCRO کے فنڈز میں کمی کے بعد پہلے کے مقابلے میں اب یہ صرف 10 فیصد رہ گئے ہیں۔

ATA کے لیے فنڈز تو SETI کی طرف سے مہیا کیے جاتے ہیں تاہم اس کے آپریشن کی ذمہ داری یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی ریڈیوایسٹرونومی لیب کے پاس ہے۔

SETI انسٹیٹیوٹ کے ایک سینئر فلکیاتی ماہر سیتھ شوسٹک کے مطابق اس ٹیلی اسکوپ کو چلانے کے لیے سالانہ دو سے تین ملین امریکی ڈالرز کی ضرورت ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ اس کے ذریعے حاصل ہونے والے ریڈیو سگنلز کو سننے کے لیے درکار سائنسدانوں کے حوالے سے دوسالہ منصوبے کے لیے مزید پانچ ملین ڈالرز درکار ہیں۔

رپورٹ: افسراعوان

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس