1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

خلائی شٹل ’ڈسکوری‘ کے ستائیس سالہ مشن کا اختتام

نو مارچ، بدھ کے روز جب خلائی شٹل ڈسکوری کینیڈی اسپیس سینٹر پر لینڈ کرے گی تو یہ اس کی آخری لینڈنگ ہوگی۔ ناسا نے ڈسکوری کو ریٹائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

default

ڈسکوری بدھ کے روز آخری بار لینڈ کرے گی

امریکی وقت کے مطابق گیارہ بج کر اٹھاون منٹ پر خلائی شٹل ڈسکوری ریاست فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر کے رن وے پر لینڈ کرے گی۔ اس لینڈنگ کے ساتھ ہی ڈسکوری تاریخ کا حصّہ بن جائے گی۔ امریکی خلائی ادارے ناسا نے ستائیس سالہ سروس کے بعد ڈسکوری کو آرام دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈسکوری کو آئندہ نسلوں کے مطالعے اور تجزیے کے لیے میوزیم میں رکھ دیا جائے گا۔

USA Raumfahrt Raumfähre Discovery ist auf dem Weg zur ISS

ڈسکوری نے اپنا پہلا خلائی سفر انیس سو چوراسی میں کیا تھا

ڈسکوری کا آخری تیرہ روزہ مشن امریکی آلات انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن تک پہنچانا تھا۔ اس کے علاوہ ڈسکوری نے انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن تک ایک انسان نما روبوٹ بھی پہنچایا ہے۔ اس روبوٹ کا نام روبوناٹ ہے اور یہ اپنی نوعیت کا پہلا روبوٹ ہے، جسے خلا میں پہنچایا گیا ہے۔

ڈسکوری کا یہ مشن چار ماہ قبل طے ہو چکا تھا تاہم شٹل میں دراڑوں کے انکشاف کے بعد اِس کی پرواز ملتوی کرنا پڑی تھی۔ واضح رہے کہ ڈسکوری امریکی خلائی بیڑے کی سب سے پرانی شٹل ہے، جو اب ڈسکوری میوزیم کی زینت بننے جا رہی ہے۔

تاریخ ساز ڈسکوری شٹل کی تیاری 1979ء میں شروع ہوئی تھی اور اس نے اپنا پہلا خلائی سفر 1984ء میں کیا تھا۔

ناسا کے کمانڈر سٹیو لنڈسی نے ایک ہفتہ قبل ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ان کے لیے یہ بات دکھ کا باعث ہے کہ ڈسکوری شٹل کے طویل کیریئر کا اختتام ہو رہا ہے اور یہ اب دوبارہ اڑ نہیں پائے گی۔

جانسن اسپیس سینٹر کے ڈائریکٹر مائکل کوٹس، جو ڈسکوری کے پہلے مشن میں بھی موجود تھے، کہتے ہیں کہ ناسا کو ڈسکوری کی تاریخ پر فخر ہے اور یہ کہ انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن ISS کی تعمیر ڈسکوری کے بغیر ممکن نہیں تھی۔

رپورٹ: شامل شمس⁄  خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی