1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

خلائی شٹل ڈسکوری کی بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر آمد

امریکی خلائی شٹل ڈسکوری کی تکنیکی خرابی کو دور کرنے کے بعد اب اُس کی پرواز کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے۔ ڈسکوری خلائی سٹیشن پر بخیریت پہنچ گئی ہے۔

default

پندرہ مارچ کو خلائی شٹل ڈسکوری کی روانگی کا منظر

Discovery gelandet

خلائی شٹل ڈسکوری کے زمین پر اترنے کا منظر

امریکی خلائی شٹل ڈسکوری اپنے سات خلا بازوں کو لے کر جرمن وقت کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی شب میں بارہ بج کر تینتالیس منٹ پر روانہ ہو گئی ہے۔ اِس سے پہلے ڈسکوری گزشتہ ہفتے کے دوران شیڈیول تھی مگر تکنیکی خرابی کے باعث اِس کی پرواز ملتوی کردی گئی تھی۔ حلائی شٹل ڈسکوری کامیابی سے بین الاقوامی خلائی مرکز پر پہنچ گئی ہے۔

ڈسکوری کی روانگی میں ملتوی کا سبب اُس کے اندر ہائڈروجن گیس کی لیکج تھی۔ اب ماہرین اور تکنیکی کارکنوں نے یہ خرابی دور کردی ہے۔ شٹل روانہ کرنے کے اُمُور کے ڈائریکٹر Mike Leinbach نے ڈسکوری کے موجودہ حفاظتی اقدامات پر اطمنان کا اظہار کیا ہے۔ اُن کا پریس کانفرنس میں مزید کہنا تھا کہ جو لیکج ہوا تھا وہ کسی بڑی خرابی کا پیش خیمہ نہیں تھا۔ اُس کو مکمل طور پر درست کردیا گیا ہے۔

ڈسکوری میں پیدا ہونے والی خرابی کے بارے میں مزید بتایا گیا ہے کہ یہ شٹل کے اندرونی حصے میں نہیں تھا بلکہ اُس کے باہر لگے ایک ٹینک میں پیدا ہوئی تھی۔ یہ ٹینک سیال ہائڈروجن سے تقریباً بھر گیا تھا اور روانگی سے دو چار گھنٹے قبل نشاندہی کی گئی تھی۔ ٹینک کو خالی کرنے کے بعد سیال ہائیڈروجن کو دوبارہ اُس کے منتخب حصے میں ڈالا گیا۔ حفاظتی تدابیر کے تناظر میں بیٹریوں کو بھی تبدیل کر دیا گیا ہے۔ شٹل کے تمام پرزوں کا معائنہ بھی کلی طور پر کیا گیا۔ ڈسکوری مشن کی انتظامیہ کے سربراہ Mike Moses نے بھی خلائی شٹل کی موجودہ اور مجموعی صورت حال پر اطمنان کا اظہار کیا ہے۔

BdT Raumfähre Russische Soyuz TMA 12 Baikonur Cosmodrom

سن دو ہزار آٹھ کے دوران روسی خلائی جہاز سویوز ، روانگی کے لئے تیار

ڈسکوری کے مشن میں انٹرنیشنل خلائی سٹیشن کے پاور نظام کو مکمل کرنے کے علاوہ کچھ مزید تعمیر بھی شامل ہے۔ سات سوار خلابازوں میں ایک جاپانی بھی شامل ہے۔

ڈسکوری شٹل کا مشن مختصر کردیا گیا ہے۔ اب چودہ کے بجائے تیرہ دنوں پر محیط ہو گا۔ ابھی تک تو موسم کے بہتر ہونے کے امکانات ہیں۔ اگر ڈسکوری کی پرواز ملتوی کی گئی تو پھر یہ دوبارہ اپریل میں شیڈیول کی جا سکتی ہے۔ جس سے بعد کی خلائی شٹل پروازوں کا شڈیول بھی متاثر ہو گا۔

امریکی خلائی شٹل کے بعد روس کا Soyuz مشن بھی چھبیس مارچ کو روانہ ہونے والا ہے۔ روسی مشن میں ایک امریکی تاجر Charles Simonyi بھی جا رہے ہیں۔ خلائی سٹیشن پر بیک وقت دو خلائی جہازوں کو کھڑے کرنے کے انتظامات تاحال نہیں ہیں۔ ایسے امکانات ہیں کہ مستقبل قریب میں خلائی سیٹشن میں وسعت دینے کی پلاننگ مکمل کر لی جائے گی۔ اُس کے بعد خلائی سروس میں اضافہ ہو نے کی صورت میں ایک سے زیادہ خلائی جہازوں کی موجودگی کے باعث بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر چہل پہل دیکھنے میں ملے گی۔