1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

خلائی شٹل چیلنجر کی تباہی کی 25 سالہ تقریبات

پچیس برس قبل دھماکے سے تباہ ہوجانے والی امریکی خلائی شٹل چیلنجر کی25 سالہ سوگواری تقریبات میں سینکڑوں افراد شریک ہوئے۔ یہ سوگواری تقریبات فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر پر منعقد کی گئیں۔

default

اسپیس شٹل چیلنجر کی اُس تباہی کے نتیجے میں اس میں سوار سات خلانورد بھی ہلاک ہوگئے تھے۔ گزشتہ روز ان خلانوردوں کی ہلاکت کے تناظر میں امریکہ میں ایک روز قومی سوگ کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔ تقریبات کے موقع پر Cape Canaveral کے مہمانوں کے کمپلیکس میں شریک افراد میں خلائی شٹل چیلنجر کے کمانڈر کی بیوہ بھی شامل تھیں۔ اس موقع پر ملک بھر کے ناسا مراکز میں امریکی پرچم سرنگوں رہا۔

Flash-Galerie Space Shuttle Challenger

Christa McAuliffe خلائی جہاز کی پرواز سے چند لمحے پہلے

خلائی شٹل چیلنجر کے ہلاک ہو جانے والے کمانڈر ڈِک سکوبی کی بیوہ June Scobee Rodgers نے اس موقع پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ دنیا جانتی ہے کہ یہ شٹل کس طرح تباہ ہوئی۔

’’ہم چاہتے ہیں کہ دنیا کو معلوم ہو کہ ان افراد نے کس طرح زندگی گزاری اور کس مقصد کے لئے ان افراد نے اپنی جانیں خطرے میں ڈالیں۔‘‘

June Scobee Rodgers نے ملک بھر میں چیلنجر سینٹر فار اسپیس سائنس ایجوکیشن کے 48 مراکز کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’مستقبل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔‘

خلائی جہاز چیلنجر سن 1986ء میں خلا کے لیے چھوڑے جانے کے صرف 73 سیکنڈ بعد 14 ہزار میٹر کی بلندی پر ایک دھماکے سے تباہ ہو گیا تھا اور اس میں موجود تمام افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس خلائی مشن کی سب سے خاص بات اس میں پہلی مرتبہ خلا کے لیے سفر کرنے والی استانی Christa McAuliffe کی موجودگی تھی۔

Flash-Galerie Space Shuttle Challenger

کینیڈی اسپیس سینٹر پر منعقد کی گئی اس یادگاری تقریب میں ناسا کے اعلیٰ عہدیدار، سابق خلانورد اور حادثے میں ہلاک ہوجانے والے افراد کے اہل خانہ اور دوست احباب شریک ہوئے۔ اس موقع پر مختلف اسکولوں کے طلبہ کو بھی تقریب میں مدعو کیا گیا تھا۔ تقریب میں پیگی شیکٹ نے بھی شرکت کی، جو جہاز میں سوار Judith Resnik کی دوست تھیں اور جو 28 جنوری سن 1986ء اس جہاز کی روانگی کے موقع پر موجود تھیں۔ ان کی نگاہوں کے سامنے یہ جہاز تباہ ہوا تھا۔ اس موقع پرحادثے میں ہلاک ہونے والوں کی یادگار پر پھول بھی نچھاورکیے گئے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس