1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

خلائی شٹل اٹلانٹس کی آخری پرواز سے واپسی

امریکی خلائی شٹل پروگرام امکانی طور پر رواں سال نومبر میں مکمل ہو جائے گا۔ بین الاقوامی خلائی سٹیشن تک آخری شٹل پرواز اینڈیور کی ہو گی۔ اس کے بعد امریکی خلائی پروگرام کو روسی خلائی سروس پر تکیہ کرنا ہو گا۔

default

خلائی شٹل اور عملہ لینڈنگ کے بعد

امریکی خلائی ادارے ناسا کے بین الاقوامی خلائی سٹیشن کے لئے جاری خلائی شٹل پروگرام کی منزل اب قریب تر آ گئی ہے۔ صرف دو پروازیں باقی رہ گئی ہیں، جن میں سے آخری نومبر میں شیڈیول ہے۔ غالباً نومبر کے بعد خلائی سٹیشن ISS تک رسائی کے لئے امریکی خلائی پروگرام کو روس کا تعاون حاصل کرنا ہو گا۔

بارہ روز خلا میں گزارنے کے بعد خلائی شٹل اٹلانٹس گزشتہ روز بخیر و عافیت واپس زمین پر اتر گئی۔ اٹلانٹس کا بدھ کو ختم ہونے والا یہ خلائی سفر چودہ مئی کو شروع ہوا تھا۔ یہ امریکی خلائی ادارے کی خلا کے لئے 132 ویں شٹل سروس تھی۔ کینیڈی خلائی مرکز پر اترنے والی شٹل میں پانچ خلاباز سوار تھے۔ اٹلانٹس شٹل کی اپنی یہ 32ویں پرواز تھی۔ اس مشن کے دوران خلابازوں نے بین الاقوامی خلائی مرکز پر موجود دوسرے خلابازوں کے لئے کام کرنے کا نیا موڈیول اور سپلائی فراہم کی۔

Space Shuttle Atlantis letzte Landung

اٹلانٹس فلوریڈا میں لینڈ کرتے ہوئے

بظاہر یہی دکھائی دیتا ہے کہ خلائی شٹل اٹلانٹس کی یہ آخری پرواز تھی لیکن ایسے اندازے بھی سامنے آئے ہیں کہ اٹلانٹس کو ایک اور پرواز کے لئے اگلے برس روانہ کیا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے ابھی بات چیت جاری ہے اور حتمی فیصلہ اگلے مہینوں میں متوقع ہے۔ ناسا کے ماہرین کا خیال ہے کہ اٹلانٹس فنی اور تکنیکی اعتبار سے پوری طرح فعال حالت میں ہے۔ کینیڈی خلائی مرکز کے ترجمان جارج ڈلر نے میڈیا کو بتایا کہ اگر اٹلانٹس کی یہ آخری پرواز تھی تو اس شٹل نے انتہائی باوقار حالت میں خلائی مشن کو خداحافظ کہا ہے۔

امریکی خلائی ادارے ناسا کے پاس کل تین خلائی شٹلز ہیں، اٹلانٹس کے علاوہ باقی دو میں سے ایک اینڈیور اور دوسری ڈسکوری ہے۔ ان دونوں شٹلز کی ایک ایک پرواز ابھی باقی ہے۔ ناسا نے اپنا

Space Shuttle Atlantis letzte Landung

اٹلانٹس اترنے کے بعد

خلائی شٹل پروگرام سن 1981میں شروع کیا تھا۔ ان شٹلز کی پروازوں کے ذریعے خلا میں سولہ ملکوں کے کنسورشیم کے تحت قائم کئے جانے والے بین الاقوامی خلائی سٹیشن ISS کوبہت سا بنیادی ضرورت کا سامان بھیجا گیا۔

ناسا شٹل سروس کی اگلی نسل میں خلا کے لئے مزید تیز رفتار راکٹ اور کیپسول تیار کر کے روانہ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ لیکن موجودہ امریکی صدر اوباما اس پروگرام کے حق میں نہیں ہیں۔ وہ ناسا میں پرائیویٹ سیکٹر کی شمولیت کے خواہاں ہیں اور اس ادارے کو کمرشل بنیادوں پر نئے انداز میں استوار ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ خلائی شٹل کے بعد کےمرحلے کی پلاننگ کی تجاویز کانگریس کو پیش کر دی گئی ہیں، لیکن ان پر کئی اراکین کانگریس کو شدید اعتراضات ہیں اور اسی لئے وہ متنازعہ بھی ہو چکی ہیں۔

امریکی خلائی ادارہ خلائی شٹل کے پروگرام کو اس لحاظ سے بھی ختم کرنا چاہتا ہے کہ ان شٹلز کی مرمت اور دیکھ بھال پر کثیر رقوم تواتر سے خرچ کی جا رہی ہیں۔ خلائی شٹل پروگرام کے مینیجر مائیک موزز کے مطابق ان کے ادارے کے پاس فنڈز کی کمی ہے اور ان شٹلز کی دیکھ بھال کے عمل میں مشکلات کا سامنا ہے۔ موزز کے مطابق یہ شٹلز اب بھی انتہائی عمدہ حالت میں ہیں اور مزید کئی برس آسانی سے ناسا کی خلائی سفر کی ضروریات پورا کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ ناسا کے ماہرین کو اس امر کا بھی اندازہ ہے کہ کوئی خلائی شٹل زمین کے داخلی یا نچلی مدار تک کے سفر کے لئے انتہائی عمدہ سروس ہے، لیکن اس سے آگے یعنی بیرونی مدار تک کے مشنوں کے لئے نئی نسل کی خلائی شٹلز درکار ہوں گی۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: مقبول ملک

DW.COM