1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

خلائی سیاحت: خلاء میں محو گردش ہوٹل اور خلائی ٹیکسیاں

روس کی ایک کمپنی 2016ء تک خلاء میں گردش کرنے والا ایک ہوٹل تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس میں سات افراد کے لیے رہائشی کمرے ہوں گے۔

default

اس بات کا اظہار رواں ہفتے ماسکو کے نواحی علاقے زہوکوفسکی میں منعقد ہونے والے ایک اہم فضائی شو میں اسٹال لگانے والی روسی خلائی کمپنیوں نے کیا۔

آر کے کے انرجیا کمپنی نے اپریل میں ناسا کے شٹل پروگرام کی بندش کے بعد ایک متبادل شٹل بنانے جبکہ اوربیٹل ٹیکنالوجیز نے خلاء میں ہوٹل کی تعمیر کی امید ظاہر کی۔ اس کے علاوہ سیاحوں کو چاند کے تاریک حصوں کی سیر کرانے اور 2030 ء تک مریخ پر لے جانے کے منصوبے بھی زیر غور ہیں۔

اوربیٹل ٹیکنالوجیز کے سربراہ سرگئی کوستینکو نے کہا، ’’خلاء کی سیاحت ایک حقیقی اور تیزی سے فروغ پانے والا کاروبار ہے۔ جو بھی پہلے نیا خلائی جہاز بنا لے گا وہ اس کے ثمرات سے مستفید ہوتا رہے گا۔‘‘

Oberfläche des Mondes

ایک روسی کمپنی کی جانب سے چاند کے تاریک حصوں کی سیر کرانے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے

تاہم غیر ملکی مبصرین کا کہنا ہے کہ انہیں روسی کمپنیوں کے پرعزم اہداف کی کامیابی پر شبہ ہےکیونکہ ان کے پاس مطلوبہ فنڈ دستیاب نہیں۔

اس کے مقابلے میں امریکی خلائی پروگرام میں ہونے والی سرمایہ کار ی کافی زیادہ ہے اور توقع ہے کہ ناسا نئے دور کا خلائی جہاز تیار کر لے گا، جس سے خلاء کی گہرائیوں میں جانے میں مدد ملے گی۔

روس کی جزوی سرکاری ملکیتی کمپنی آر کے کے انرجیا کے خلاء کے بارے میں کاروباری امور کے عہدیدار الیگزینڈر دریچن نے کہا کہ روس کو امریکہ کی نجی کمپنیوں بوئنگ اور لاک ہیڈ مارٹن کے علاوہ نئی کمپنیوں سے بھی سخت مقابلے کا سامنا ہے۔

روسی کمپنیوں کے بلند خواب

سن 2001 میں پہلے امریکی کروڑ پتی کو خلاء میں لے جانے کی ایک دہائی بعد انرجیا کمپنی چھ افراد کی گنجائش کی حامل ایک شٹل تیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جو اس کے چالیس سال پرانے سویوز جہاز کے مقابلے میں مسافروں کو پرسکون انداز میں اترنے کا تجربہ فراہم کرے گی۔

شو میں نئی شٹل کا ڈیزائن تیار کرنے والے ولادیمیر پیروزکوف نے کہا، ’’دنیا کا سب سے مہنگا ٹکٹ خریدنے والے لوگوں کا سفر خوفناک نہیں بلکہ آرام دہ ہونا چاہیے۔‘‘

NO FLASH Landung der Atlantis Raumfähre Spaceshuttle Juli 2011

امریکی شٹل پروگرام کے خاتمے کے بعد روس خلاء میں کاروباری سرگرمیاں بڑھانے کا سوچ رہا ہے

روس 2013 ء تک سیاحت کی ٹکٹیں فروخت نہیں کر سکتا۔ فی الوقت اس کے سویوز کیپسول میں سفر کرنے کی لاگت 5 کروڑ ڈالر ہے۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ تجارتی خلائی صنعت میں صف اول کی چار امریکی کمپنیوں میں سے کم از کم ایک کمپنی خلا نوردوں کو زمین کے نچلے مدار تک لے جانے کے لیے 2016 تک خلائی ٹیکسیاں تیار کر سکتی ہے۔

اوربیٹل ٹیکنالوجیز کے مطابق مجوزہ ہوٹل زمین سے اوپر 217 میل کی بلندی پر واقع ہو گا اور اس میں پانچ روزہ قیام کی لاگت دس لاکھ ڈالر تک ہو گی۔ اگرچہ یہ ہوٹل خلائی اسٹیشن کے مقابلے میں زیادہ آرام دہ ہوگا مگر سیاحوں کو بے وزنی کی کیفیت کے باعث خلائی غذا اور خلائی بیت الخلاء استعمال کرنے کی ضرورت پڑے گی۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس