1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

خلائی جہاز ”وینس ایکسپریس“ اپنی منزل پر

نومبر سن 2005ءمیں روس کے خلائی سٹیشن بیکا نور سے روانہ کیا گیا یورپی خلائی تحقیقی جہاز وینس ایکسپریس زمین کے ہمسایہ سیارے وینس یعنی زہرہ کے مدار میں پہنچ گیا ہے۔

default

جب جہاز Venus Express زہرہ کے مدار کے قریب پہنچا تو ایک بڑا انجن چلا کر اِس کی رفتار کو کم کر دیا گیا تاکہ یہ آسانی سے اِس سیارے کی کشش ثقل کے دائرے میں داخل ہو سکے۔ اب یہ اگلے 500 روز تک زہرہ کے مدار میں رہتے ہوئے اِس کے فضائی ماحول کے بارے میں ا عداد و شمار جمع کرے گا تاکہ زمین کے باسیوں کو ، جو اب تک اِس ہمسایہ سیارے کے بارے میں محض افسانوی معلومات رکھتے ہیں ، زہرہ کے بارے میں اصل حقائق کا پتہ چل سکے۔ زہرہ کے فضائی جائزے سے زمین کی ماحولیاتی تبدیلیوںکے بارے میں بھی معلومات حاصل ہو سکیں گی۔

وینس یعنی زہرہ سورج سے دس کروڑ بیاسی لاکھ کلو میٹر کی دوری پر ہے۔ اِس کا ایک سال 224 دِنوں پر محیط ہے۔ اگلے دو چار ہفتوں میں وینس ایکسپریس زہرہ کے بیضوی مدار میں اُس کے شمالی قُطب کے اِتنا قریب ہو جائے گا کہ یہ فاصلہ صرف اور صرف چار سو کلو میٹر رہ جائے گا۔تبھی معلوم ہو گا کہ زمین سے اتنا قریب ہوتے ہوئے بھی زہرہ آب و ہوا کے لحاظ سے زمین سے اتنا مختلف کیوں ہے۔

وینس ایکسپریس کے مرکزی انجن کا کنٹرول جرمن شہر Darmstatt میں قائم یورپی خلائی ایجنسی کے آپریشن روم میں ہے۔ آپس میں جڑے کئی تحقیقی مراکز میں ہمہ وقت وینس ایکسپریس سے موصولہ تصاویر اور ڈیٹا پر کام جاری ہے۔

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ زمین کے مقابلے میں زہرہ سورج کے قریب ہے مگر اُس کو بسا اوقات گہرے بادلوں کی چادر اپنے حصار میں لئے رکھتی ہے اور اِسی وجہ سے یہ شمسی توانائی قدرے کم جذب کرتا ہے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ وینس ایکسپریس کے ذریعے زمین اور زہرہ کے درمیان ماحولیاتی مماثلت کا تعین ہوسکے۔ اب تک کی معلومات کے مطابق کاربن ڈائی آکسائڈ زہرہ کی فضا پر ایک دبیز چھتری تانے ہوئے ہے اور اسی لئے سورج کی حدت وینس پر مقید ہو کر رہ جاتی ہے۔ یہی ٹھہری ہوئی شمسی توانائی زہرہ پر انتہائی زیادہ درجہ حرارت کاسبب ہے۔ ایک اندازے کے مطابق زہرہ کا اوسط درجہ حرارت 467 ڈگری سینٹی گریڈ یا 872 ڈگری فارن ہائیٹ کے قریب ہے اور اِتنے درجہ حرارت میں سیسہ بھی پگھل جاتا ہے۔


وینس ایکسپریس کی صورت میں پہلی بار یہ امکان پیدا ہوا ہے کہ انسانی ذہن سیارے وینس یعنی زہرہ کے گرد پراسراریت کی دبیز چادر میں روزن پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ معلومات کے یہ دریچے کب وا ہوں گے ، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔