1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

خلائی جہاز اینڈیور خلا سے واپس زمین پر

کیپ کینیورل سے موصولہ خبروں کے مطابق خلائی جہاز اینڈیور خلا میں اپنا آخری سفر مکمل کرنے کے بعد گزشتہ شب واپس زمین پر پہنچ گیا۔ یہ جہاز فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر میں مقامی وقت کے مطابق رات دو بج کر 35 منٹ پر اُترا۔

امریکی خلائی جہاز اینڈیور

خلائی جہاز اینڈیور

امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے مطابق یہ جہاز خلا میں اپنا پچیس واں سفر مکمل کرنے کے بعد اپنے چھ خلا بازوں کے ساتھ، جن میں پانچ امریکیوں کے ساتھ ساتھ ایک اطالوی خلا باز بھی شامل ہے، بخیریت زمین پر واپس پہنچ گیا ہے۔

اینڈیور کے کمانڈر مارک کیلی نے لینڈنگ کے چند لمحات بعد ہی اپنے ایک بیان میں کہا ’’اِس جہاز کو آخری مرتبہ لینڈ کرتے دیکھ کر دل اداس ہو رہا ہے لیکن اس نے واقعی زبردست کارنامہ سرانجام دیا ہے۔‘‘

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن ISS

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن ISS

اینڈیور کے چھ خلابازوں کا بین الاقوامی اسپیس اسٹیشن کی جانب یہ مشن سولہ روز پر مشتمل تھا۔ اس دوران ان خلا بازوں نے اس خلائی مرکز پر دو ارب ڈالر مالیت کے طبیعیاتی آلات نصب کیے، جن کا مقصد یہ پتہ چلانا ہے کہ ہماری کائنات کیسے وجود میں آئی۔ ان خلا بازوں نے ISS پر اپنے قیام کے دوران چار مرتبہ باہر نکل کر خلا میں چہل قدمی بھی کی۔

ناسا کا خلائی جہازوں کا تیس سال سے چلا آ رہا پروگرام اب جلد ہی اختتام کو پہنچنے والا ہے۔ آخری مشن کے لیے خلائی جہاز Atlantis آٹھ جولائی کو اپنے سفر پر روانہ ہو گا۔

فلوریڈا میں ناسا کا کینیڈی اسپیس سینٹر

کینیڈی اسپیس سینٹر، فلوریڈا

اس امریکی خلائی پروگرام کے انجام کو پہنچ جانے کے بعد امریکی خلا بازوں کو خلا میں سفر کی غرض سے ایک عبوری عرصے کے لیے روسی خلائی جہازوں پر انحصار کرنا پڑے گا، جہاں اُنہیں فی خلا باز 51 ملین ڈالر ادا کرنا ہوں گے۔ یہ سلسلہ اُس وقت تک چلے گا، جب تک کہ امریکہ میں نجی شعبے کی جانب سے کوئی نیا خلائی جہاز نہیں بنا لیا جاتا۔ ناسا کے مطابق یہ نیا امریکی خلائی پروگرام 2015ء اور 2021ء کے درمیان کسی بھی وقت شروع ہو سکتا ہے۔

خلائی شٹلز کے امریکی پروگرام میں مجموعی طور پر 6 خلائی جہاز شامل تھے۔ ڈسکوری نامی خلائی جہاز کو اس سال مارچ میں اُس کے آخری سفر کے بعد سے ریٹائر کیا جا چکا ہے۔ دو خلائی جہاز پرواز کے دوران تباہ ہو گئے تھے۔ چیلنجر 1986ء میں جبکہ کولمبیا 2003ء میں تباہ ہوا اور اُن پر موجود 14 خلا باز ہلاک ہو گئے۔ Enterprise نامی خلائی جہاز کبھی خلا کے سفر پر نہیں گیا بلکہ اِسے شروع سے واشنگٹن سے باہر ایک عجائب گھر میں رکھا گیا ہے۔

اینڈیور اِس امریکی خلائی بیڑے کا سب سے نیا جہاز ہے، جو چیلنجر کی تباہی کے بعد سات مئی سن 1992ء کو اپنی پہلی پرواز پر روانہ ہوا تھا۔ اینڈیور نے خلا میں 299 دن گزارے اور اس نے مجموعی طور پر 198 ملین کلومیٹر کا سفر طے کیا۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس