1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

خلاء میں ’سولر فلیئرز‘ کے باعث زمین پر بجلی کا نظام متاثر

سورج سے بدھ چھ ستمبر کو خارج ہونے والے بہت زیادہ درجہ جرارت والی گیسوں کے دو بہت بڑے بڑے بادل زمین کی طرف بڑھ رہے ہیں، جن میں سے ایک تو گزشتہ قریب ایک عشرے کے دوران سورج سے خارج ہونے والا ایسا سب سے بڑا بادل تھا۔

default

ناسا کی جاری کردہ سورج کی بالائی سطح کی ایک تصویر

ایک طرح سے شمسی طوفان کہلانے والے ایسے بادلوں سے بہت طاقت ور مقناطیسی شعاعیں بھی خارج ہوتی ہیں، جن میں تابکاری کی بھی کوئی کمی نہیں ہوتی۔ خلا میں ایسے شمسی طوفانوں اور ان کی وجہ سے پیدا ہونے والی بہت گرم لہروں کے سبب زمین پر خود انسانی زندگی کو تو براہ راست کوئی خطرہ نہیں ہوتا لیکن یہی خلائی عوامل انسانوں کی طرف سے خلاء میں بھیجے گئے مواصلاتی نظاموں کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں اور ساتھ ہی زمین پر چند خاص قسم کی تنصیبات کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

ناسا نے زمین جیسے دس نئے سیارے دریافت کر لیے

مشتری کے ایک چاند پر پراسرار سرگرمیاں جاری

سائنسدانوں کے مطابق solar flares یا ’شمسی طوفان‘ دراصل سورج کی بالائی سطح پر اس ستارے کے اندر جاری انتہائی طاقت ور طبیعیاتی اور کیمیائی عوامل کے نتیجے میں پیدا ہونے والی وہ ناقابل تصور حد تک تیز چمک ہوتے ہیں، جن سے اتنی زیادہ توانائی خارج ہوتی ہے، جس کا کوئی عام انسان بالعموم تصور بھی نہیں کر سکتا۔

ماہرین کے مطابق ایسا ہوا بھی۔ انہی مقناطیسی اور تابکاری اثرات والے گرم گیسی بادلوں نے مواصلاتی سیاروں کے ذریعے کام کرنےو الے اور خلا میں موجود گلوبل پوزیشننگ سسٹم یا جی پی ایس کو بھی متاثر کیا اور ساتھ ہی زمین پر چند ممالک کے مختلف حصوں میں بجلی کی فراہمی کا نظام بھی قریب ایک گھنٹے تک متاثر ہوا۔

Sonnensystem mit Mini-Planet Ceres

زمین کا نظام شمسی جس کا ستارہ سورج ہے

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کی ’سولر ڈائنامکس آبزرویٹری‘ یا شمسی عوامل کی مشاہدہ گاہ کے ماہرہن کے بقول یہ دونوں ’سولر فلیئرز‘ اپنی نوعیت میں ’ایکس کلاس‘ کے خلائی بادل تھے، جو اپنی درجہ بندی کے لحاظ سے ان گیسی بادلوں کی طاقت ور ترین کیٹیگری ہے۔

اب شمسی توانائی خلاء میں ہی پیدا کی جائے گی

مریخ کی جانب انسانی سفر کی تیاری

نئے دور افتادہ ترین نظام شمسی کی دریافت

ناسا کے سائنسدانوں کے مطابق سورج سے اخراج کے باعث انہی بادلوں کو coronal ejection بھی کہا جاتا ہے، اور ان میں سے ایک بادل تو 2006ء کے بعد سے سورج سے خارج ہونے والا اپنی نوعیت کا سب سے بڑا اور طاقت ور بادل تھا۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ناسا کے ماہرین شمسی اخراج کے بعد خلاء میں رونما ہونے والے ان عوامل پر مسلسل نظر رکھے ہوئے تھے، اور انہوں نے ان ’فلیئرز‘ کی چند تصاویر بھی جاری کی ہیں۔

ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ ان شمسی طوفانوں کے نتیجے میں زمین کی بیرونی سطح اور اس کے مدار کو انتہائی زیادہ توانائی والے خلائی ذرات اور مقناطیسی شعاؤں کا سامنا بھی ہے۔ حیران کن بات یہ بھی ہے کہ ان ’فلیئرز‘ نے سورج کی سطح سے اخراج کے بعد جب خلاء میں اپنا سفر شروع کیا، تو ان سے خارج ہونے والی مجموعی توانائی کئی لاکھ ہائیڈروجن بموں سے بیک وقت خارج ہونے والی کُل توانائی سے بھی زیادہ تھی۔

جُوپیٹر سیارے کا نیا مہمان، جُونو

زمین جیسے تین نئے ’غالباﹰ قابل رہائش‘ سیاروں کی دریافت

ایسے شمسی خلائی عوامل کس کس طرح زمین پر انسانی وجود کو بالواسطہ طور پر متاثر کر سکتے ہیں، اس کی دو مثالیں یہ بھی ہیں کہ 2003ء میں کرہِ ارض کی فضا سے ٹکرانے والے آج تک کے طاقت ور ترین شمسی طوفان کے باعث پیدا ہونے والی مقناطیسی شعاؤں سے خلاء میں نہ صرف جاپان کا ایک مصنوعی سیارہ تباہ ہو گیا تھا بلکہ 1972ء میں انہی ’فلیئرز‘ سے امریکی ریاست اِلینوئے میں ٹیلی فون لائنوں تک کی کارکردگی متاثر ہوئی تھی۔

DW.COM