1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

خط پھاڑ دینے والے ناراض بھارتی ڈاکیے کو دو سال قید کی سزا

بھارت میں ایک ایسے ڈاکیے کو ایک علاقائی عدالت کی طرف سے دو سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے، جس نے ایک ایسا خط غصے میں پھاڑ دیا تھا، جسے وہ اس کے وصول کنندہ تک پہنچانے میں ناکام رہا تھا۔

Indien Letter Writer Illiteralität

بہت سے بھارتی دیہی ڈاک خانوں کے باہر ایسے لوگ بیٹھے ہوتے ہیں جو ناخواندہ شہریوں کو معاوضے کے عوض خط لکھ دیتے ہیں

بھارتی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹوں کے حوالے سے ملکی دارالحکومت نئی دہلی سے جمعہ اٹھارہ دسمبر کے روز جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ یہ واقعہ 2009ء میں پیش آیا تھا اور اس ڈاکیے کو انڈین پوسٹ آفس ایکٹ کے تحت سزائے قید جمعرات سترہ دسمبر کے روز سنائی گئی۔

ڈی پی اے کے مطابق سزا پانے والے ڈاکیے کا نام سیموئل جان ہے، جو جنوبی بھارتی ریاست کیرالا میں محکمہ ڈاک کا ایک مسیحی ملازم ہے۔ اس نے اپنے ڈاک خانے کے پوسٹ ماسٹر کی اجازت کے بغیر اپنے ایک ساتھی کو یہ ذمے داری سونپی تھی کہ وہ علاقے میں ڈاک تقسیم کر آئے۔

اس کا ساتھی کافی خطوط ان کے وصول کنندگان تک پہنچا آیا تھا لیکن کچھ ڈاک تقسیم نہیں کی جا سکی تھی۔ بعد ازاں جب متعلقہ پوسٹ ماسٹر نے اس بارے میں سیموئل جان سے پوچھ گچھ کرتے ہوئے اس کی سرزنش کی، تو سیموئل نے اشتعال میں آ کر ایک خط پھاڑ دیا تھا۔

اس واقعے کے بعد پوسٹ ماسٹر کی شکایت پر یہ معاملہ ایک مقدمے کی صورت اختیار کر گیا، جس کے اختتام پر ریاست کیرالا کی ایک عدالت نے جمعرات کے روز سیموئل جان کی حرکت کو ’شدید نوعیت کا جرم‘ قرار دیتے ہوئے اسے دو سال کی وہ زیادہ سے زیادہ قید سنا دی، جس کا وہ انڈین پوسٹ آفس ایکٹ کے تحت سزا وار تھا۔

پبلک پراسیکیوٹر آرومل اُنّی نے اخبار ہندوستان ٹائمز کو بتایا کہ سزا یافتہ ڈاکیا سیموئل جان اس وقت ضمانت پر ہے اور اس کے وکیل نے کہا ہے کہ وہ اس عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔

بھارتی قوانین کے مطابق کسی کا خط یا کوئی پیکٹ کھولنے، دانستہ طور پر روک لینے یا تاخیر سے پہنچانے والے کسی بھی پوسٹل اہلکار کو دو سال تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

DW.COM