1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

خطے میں اسرائیل کی عسکری برتری برقرار رکھیں گے، پنیٹا

امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک کی جانب سے اسرائیل کو سلامتی کی ضمانت سے متعلق یقین دہانی کرانے اور ترکی و مصر کے ساتھ اس کے تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کریں گے۔

default

مشرق وسطیٰ اور یورپ کے دورے پر روانہ ہونے والے لیون پنیٹا نے طیارے میں اخباری نمائندوں سے گفتگو میں یہ بات کہی۔ طیارے میں گفتگو کے دوران پنیٹا نے کہا، ’’ضروری  یہ ہے کہ ہم اسرائیل کے ساتھ اپنے مضبوط دفاعی تعلقات کا از سر نو اعادہ کریں اور یہ واضح کردیں کہ ہم خطے میں اسرائیل کی عسکری برتری قائم رکھیں گے۔‘‘

امریکی وزیر نے کہا کہ اسرائیل کو قیام امن کے لیے خطرات مول لینا ہوں گے اور امریکہ اس کی سلامتی کو ممکن بنانے کا بندوبست کرے گا۔ امریکی خفیہ ادارے سی آئی کے سابق سربراہ پنیٹا کا کہنا تھا کہ محض عسکری برتری کافی نہیں، اسرائیل کی حقیقی سلامتی اُس صورت میں ممکن ہے جب اسے سفارتی محاذ پر بھی کامیابی حاصل ہو۔

NO FLASH Benjamin Netanjahu UN Vollversammlung 2011

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل خطے میں مسلسل تنہا ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے بقول سلامتی سے متعلق امریکی ضمانتیں اسرائیل کو امن کے لیے خطرات مول لینے کے قابل بنائیں گی۔ وزارت دفاع کا قلمدان سنبھالنے کے بعد یہ پنیٹا کا مشرق وسطیٰ کا پہلا دورہ ہے۔

طیارے میں صحافیوں سے بات چیت میں لیون پنیٹا نے کہا، ’’ یہ واضح ہے، مشرق وسطیٰ میں ان دنوں کی ڈرامائی صورتحال میں، جس دوران بہت سے تبدیلیاں رونما ہوئیں، اسرائیل کے تنہا ہوتے جانے کے لیے یہ اچھی صورتحال نہیں، اور یہی کچھ ہو رہا ہے۔‘‘

عرب دنیا میں جمہوری انقلابوں کے بعد خطے میں امن، خوشحالی اور سیاسی تبدیلی کے لیے عوامی جذبات اور امیدیں بڑھی ہیں۔  اس پس منظر میں مصری دارالحکومت قاہرہ میں اسرائیلی سفارتخانے پر مظاہرین کے حملے کو اسرائیل کے لیے ایک انتباہی پیغام تصور کیا جا رہا ہے۔ اس واقعے نے مصر اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کے مستقل سے متعلق سوالات کو بھی جنم دیا ہے۔ ترکی کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات پہلے ہی سے کشیدہ چلے آرہے ہیں۔

Rede Mahmoud Abbas UN NO FLASH

فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس

  

لیون پنیٹا اسرائیل میں اپنے ہم منصب ایہود باراک اور وزیر اعظم نیتن یاہو سے ملنے کے بعد فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس اور وزیر اعظم سلام فیاض سے ملیں گے۔ مشرق وسطیٰ میں قیام امن سے متعلق امریکی مؤقف کی وکالت کرتے ہوئے پنیٹا نے کہا کہ فریقین کو چاہیے کہ پیشگی شرطیں عائد کیے بغیر مذاکرات شروع کرکے مسئلہ حل کریں۔  فلسطینی قائدین اقوام متحدہ میں علیٰحدہ ریاست کے طور پر رکنیت کے لیے درخواست جمع کر واچکے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے لیے یہودی آباد کاری کے منصوبے روکنے کی شرط پر بھی سمجھوتہ نہیں کیا جا رہا۔ اس کے برعکس اسرائیلی حکومت نے متنازعہ علاقوں میں مزید 11 سو مکانات تعمیر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے فلسطینیوں سے بلامشروط مذاکرات شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کی جا رہی ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM