1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

خسرہ ایک بار پھر پھیلتا ہوا

بچوں میں پائی جانے والی اہم متعدی بیماری خسرے کے بارے میں تازہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اس مرض کا پھیلاؤ پھر سے شروع ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ مختلف ملکوں میں اس کے خلاف ویکسین کی عدم دستیابی ہے۔

default

خسرے میں مبتلا ایک بچہ

عالمی ادارہ صحت نے بتایا ہے کہ متعدی امراض میں شمار ہونے والے عارضے خسرے کا عالمی سطح پر دوبارہ پھیلاؤ شروع ہو گیا ہے۔ چند افراد کی جانب سے شک ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس مرض کے جراثیم پر اس کے خلاف ویکسین کا اثر بظاہر کم ہونے لگا ہے۔ لیکن عالمی ادارہ صحت کے مطابق فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے اس ویکسین کی دستیاب مقدار میں کمی خسرے کے دوبارہ پھیلاؤ کا بنیادی سبب ہے۔

سن 2007 کے دوران دنیا بھر میں خسرے میں مبتلا 74 فیصد بچوں کو موت کے منہ میں جانے سے بچا لیا گیا تھا۔ اس کو عالمی افق پر ایک بڑی کامیابی سے تعبیر کیا گیا۔ مدافعتی ویکسین کی وجہ سے سالانہ بنیادوں پر 75 لاکھ ہلاکتوں کی تعداد گھٹ کر ساڑھے 19 لاکھ کی سطح پر آ گئی تھی۔ بچوں کی ہلاکتوں میں کمی کی وجہ سے عالمی ادارہ صحت کے محققین میں خسرے کے مرض پر عنقریب مکمل قابو پا لینے کا احساس پیدا ہو گیا تھا۔

Masern Impfung bei Kindern

ایک جرمن ڈاکٹر ایک بچے کو خسرے کا حفاظتی ٹیکہ لگاتے ہوئے

عالمی ادارہ صحت کے تازہ اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ خسرے کے واقعات میں جو کمی دیکھی گئی تھی، اب مختلف ملکوں میں اس میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ بات عالمی ادارے کے پاس جمع ہونے والے اعدادوشمار کی روشنی میں کہی گئی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے شعبہ ویکسی نیشن کے ڈاکٹر پیٹر سٹریبل کا کہنا ہے کہ ’خسرے کی واپسی‘ کی وجہ یقینی طور پر ویکسین کی لیبارٹری پیداوار میں کمی ہے اور اس کی وجہ سے مختلف غریب ملکوں میں اس مدافعتی دوا کا ذخیرہ بھی اب کم تر حجم میں دستیاب ہے۔ دستیابی میں کمی کی بنیادی وجہ ادارے کے پاس مالی وسائل میں کمی ہے یا مختلف حکومتوں کی جانب سے مہیا کئے گئے فنڈز کی میں کمی۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ مختلف ملکوں میں قائم سیاسی حکومتوں میں سن 2008 کے بعد سے خسرے پر مکمل کنٹرول کے ارادوں اور خواہشات میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔

Symbolbild Weltgesundheitstag Jedes vierte Baby nicht ausreichend geimpft

ٰافریقی ملکوں میں بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے کے بجائے ویکسین کے قطرے پلائے جاتے ہیں

تازہ صورت حال کے مطابق دنیا کے 37 ملکوں میں گزشتہ سال خسرے کی بیماری کئی مقامات پر پھوٹ پڑی تھی۔ ان 37 ملکوں میں سے 30 ملک براعظم افریقہ میں ہیں۔ اس دوران خسرے کے 64 ہزار نئے مریض رپورٹ کئے گئے۔ افریقی ملکوں میں اس وجہ سے کم از کم 1100بچوں کی موت بھی واقع ہو گئی، جو انہی ملکوں میں گزشتہ برسوں میں خسرے کی وجہ سے نظر آنے والی ہلاکتوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر فنڈز کی دستیابی کی صورت حال یہی رہی تو سن 2012 کے آخر تک خسرے سے ہلاکتوں کی تعداد پانچ لاکھ سے تجاوز کر جائے گی۔ اس ادارے کے مطابق ویکسین سےخسرے کو کنٹرول کرنے کی جو صورت حال بہتر بنائی گئی تھی، وہ اس کی عدم دستیابی سے دوبارہ اپنی پرانی سطح پر پہنچ جائے گی اور بچوں کی ایک پوری نئی نسل اس کی لپیٹ میں آ سکتی ہے۔

ڈاکٹر پیٹر سٹریبل کے مطابق سن 2015 کو سامنے رکھ کر کوشش کی جارہی تھی کہ دنیا کے 90 فیصد بچوں کو خسرے کی مدافعتی ویکسین دی جا سکے لیکن موجودہ صورت حال کے باعث یہ عملی کارروائی اب محض ایک خواب ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے لئے خاص طور پر غریب ملکوں کی حکومتوں کو اس مسئلے پر توجہ دینا ہو گی۔

خسرے کی بیماری میں بدن پر چھوٹے چھوٹے سرخ دانے نکل آتے ہیں اور مریض کو بخار بھی ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے بچہ اگر ہلاکت سے بچ بھی جاتا ہے، تو اس بیماری کی وجہ سے وہ معذور بھی ہو سکتا ہے۔ بعض صورتوں میں نابیناپن اور کانوں کے امراض بھی سامنے آئے ہیں۔ اس بیماری کے دوران نمونیا بھی ہو سکتا ہے، جس سےمریض کی ہلاکت کا خطرہ اور بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: مقبول ملک

DW.COM