1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

خرم ذکی کا قتل، ایک اور آواز خاموش کر دی گئی

پاکستان کے شہر کراچی میں سماجی کارکن اور سابق صحافی خرم ذکی کے مسلح افراد کے ہاتھوں قتل نے ملکی سطح پر انسانی حقوق اور آزادئ اظہار پر ایک مرتبہ پھر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

40 سالہ خرم ذکی کو ہفتے کے روز ایک ہوٹل کے باہر مسلح افراد نے گولیوں سے قتل کر دیا تھا۔ ذکی کو انتہا پسند تنظیم لشکر جھنگوی، تحریک طالبان پاکستان اور لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز کے خلاف اپنے برملا اظہار رائے کی وجہ سے جانا جاتا تھا۔ مقامی میڈیا پر جاری کردہ رپورٹس کے مطابق تحریک طالبان کے ’حکیم اللہ گروہ‘ نے خرم ذکی کے قتل کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ سوشل میڈیا پر خرم ذکی کے قتل کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔

معروف صحافی رضا رومی نے فیس بک پر لکھا،’’ ہم میں سے بہت لوگوں نے خرم ذکی کو محتاط رہنے کا کہا تھا، لیکن وہ اپنے مشن میں انتہائی پر عزم تھا۔‘‘

صحافی مرتضیٰ علی شاہ نے ٹوئيٹ کی،’’ خرم ذکی کا قتل نیشنل ایکشن پلان کی ناکامی ہے۔ انتہا پسند تنظیمیں آج بھی پاکستان میں آزاد اور طاقت ور ہیں۔‘‘

خاتون اینکر پرسن نسیم زہرہ نے اس بارے میں لکھا کہ ایک اور ایسے شہری کو قتل کر دیا گیا ہے جو شدت پسندی اور نفرت کے خلاف سرگرم تھا۔

صحافی طحہٰ صدیقی نے لکھا کہ درحقیقت خرم ذکی کا قتل اس ریاست کی وجہ سے ہوا ہے جس نے انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کو یہاں کارروائیاں کرنے کی اجازت دی ہے۔

امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے لکھا، ’’جب بھی کہا جاتا ہے کہ حالات بہتر ہو رہے ہیں، ایک ایسا واقعہ پیش آ جاتا ہے جو پاکستان میں بنیاد پرستی کے مسائل ظاہر کرتا ہے۔‘‘

پاکستان کے انگریزی اخبار ڈان میں سلیمان اختر نے خرم ذکی کے قتل پر ایک مضمون میں لکھا ہے، ’’ یہ پاگل پن ہے اور یہ پاگل پن پاکستان میں اب ایک عام سی بات ہو گئی ہے۔‘‘

DW.COM