1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

خرابی صحت کی ایک ممکنہ وجہ اکیلا پن بھی

امریکہ میں شائع ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جو افراد اکیلے زندگی بسر کرتے ہیں، وہ شدید حد تک اکیلے پن کے علاوہ ممکنہ طور پر نیند کے عمل میں انتہائی حد تک خرابی کا شکار بھی ہو سکتے ہیں۔

default

ایسے افراد میں کم خوابی یا بد خوابی کے علاوہ نیند میں بار بار خلل کے پریشان کن حد تک زیادہ واقعات بھی دیکھنے میں آ سکتے ہیں، جو روزمرہ زندگی میں ان کی معمول کی جسمانی صحت کو متاثر کر سکتے ہیں۔

نیند سے متعلق امریکی سائنسی تحقیقی جریدے Sleep کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والے اس نئی ریسرچ کے نتائج کے مطابق یونیورسٹی آف شکاگو کی ایک خاتون ماہر Lianne Kurina اور ان کے ساتھیوں نے امریکی ریاست ساؤتھ ڈکوٹا میں دو مختلف مقامات پر رہنے والے افراد کی نیند سے متعلق عادات اور صورت حال کا طبی مطالعہ کیا۔ یہ زیر مطالعہ افراد اپنے اپنے علاقوں میں کافی عرصے سے مقیم تھے اور قدرے زیادہ عمر کے شہری تھے۔

abc 2010 - art berlin contemporary

اس دوران ان 95 افراد کو ان کے اکیلے پن کے احساس اور نیند کے دوران ہونے والے کم خوابی، بد خوابی یا نیند میں خلل کے تجربات کی بنیاد پر دو گروپوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ اس تحقیق سے پتہ یہ چلا کہ قدرے مذہبی رجحانات والے ان امریکی شہریوں میں، جو مقامی سطح پر دیگر افراد کے ساتھ مل جل کر رہنے کے عادی تھے، ان کی نیند میں خلل کا ان میں اکیلے پن کے احساس سے کافی ربط پایا گیا۔

مجموعی طور پر یہ تمام افراد سماجی میل جول کے قائل تھے تاہم جن زیر مشاہدہ شہریوں میں اکیلے پن کا احساس زیادہ تھا، ان میں نیند میں خلل کے واقعات بھی زیادہ پائے گئے۔

لیان کورینا اور ان کے ساتھیوں کے بقول اس تحقیق کے نتائج سن 2002 میں مکمل کی گئی اس ریسرچ کے نتائج کی تصدیق کرتے ہیں، جس کا موضوع ’تنہائی کے احساسات اور نیند کا معیار‘ تھا۔ اس ریسرچ سے بھی ماہرین کو یہی اندازہ ہوا تھا کہ جذباتی اور سماجی طور پر اکیلے پن کے شکار افراد نہ صرف نیند میں خرابی کا شکار ہو جاتے ہیں بلکہ ان کے مقابلے میں یہ خرابی ایسے افراد میں کم پائی جاتی ہے، جن میں اپنے اکیلے ہونے یا تنہا رہ جانے کا احساس نہیں پایا جاتا۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس