خبر ہے تو اچھی لیکن؟ | سائنس اور ماحول | DW | 07.09.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

خبر ہے تو اچھی لیکن؟

دنیا بھر میں جنگلات میں کمی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق گو کہ اس سلسلے میں کچھ بہتری آئی ہے لیکن گزشتہ پچیس برسوں میں جنوبی افریقہ جتنے رقبے کے برابر جنگلات کا خاتمہ ہو چکا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک اور زرعی ترقی ’ ایف اے او‘ کے مطابق عالمی سطح پر کیے جانے والے اقدامات کے بعد جنگلات کو کاٹنے کے معاملے میں تھوڑی بہت بہتری آئی ہے۔ اگر گزشتہ برسوں سے موجودہ صورتحال کا موازنہ کیا جائےتو یہ تین فیصد بنتا ہے۔ ایف اے او کی رپورٹ کے مطابق اس بہتری کے باوجود 1990ء سے اب تک 129 ملین ہیکڑز پر موجود جنگلات کو کاٹ دیا گیا ہے، جوجنوبی افریقہ کے رقبے کے برابر بنتا ہے۔ مزید یہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران درختوں کی کٹائی کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے خطے جنوبی امریکا اور افریقہ ہیں، ’’ ان علاقوں میں بھی درختوں کی کٹائی کے رجحان میں کچھ کمی واقع ہوئی ہے تاہم ابھی مزید اقدامات کی ضرورت ہے‘‘۔

Kolumbien Militärhubschrauber Black Hawk

بارہ ملین افراد کا روزگار جنگلات سے جڑا ہوا ہے

دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے خوراک کی مانگ میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور دوسری جانب جنگلات میں بھی کمی ہوتی جا رہی ہے۔ اس رپورٹ میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ بہت سے ملکوں میں اپنے جنگلات کے وسائل کے بارے میں آگاہی بڑھی ہے، ’’اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب عالمی منظر نامے پر جنگلات کے حوالے سے تصویر بدل رہی ہے۔ 1990ء میں4.1 بلین ہیکرڑ رقبے پر جنگلات تھے اور اب 2015ء میں چار بلین ہیکڑر سے کچھ کم ہیں۔‘‘

جنگلات ماحولیاتی تبدیلیوں سے تحفظ فراہم کرتے ہیں کیونکہ درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں۔ درختوں کی کٹائی زمینی تودے گرنے اور سیلابوں کا باعث بنتی ہے۔ جنگلات پر تحقیق کرنے والے ایک بین الاقوامی ادارے کے مطابق بارہ ملین افراد کا روزگار جنگلات سے جڑا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ساٹھ ملین قدیمی باشندے ایسے ہیں، جن کی زندگی کا مکمل دارومدار جنگلات پر ہی ہے، ’’ بڑا مسئلہ ابھی بھی باقی ہے، یعنی مؤثر پالیسی، قانون سازی اور ضوابط کی موجودگی کے باوجود ان پر مناسب انداز میں عمل درآمد نہیں کیا جاتا‘‘۔