1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

خبردار! ’سگریٹ پینے پر جیل ہوسکتی ہے’

بھوٹان دُنیا کا پہلا ملک ہے، جہاں تمباکو کی مصنوعات کی فروخت پر پابندی لگائی گئی۔ اس حوالے سے قانون سازی 2004ء میں کی گئی تھی۔ تاہم بلیک مارکیٹنگ کی وجہ سے حکام کو اس قانون کے نفاذ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

default

رواں برس کے آغاز سے بھوٹان حکام نے اس قانون کے نفاذ کے لیے زیادہ سخت رویہ اپنایا، جس کے تحت سگریٹ نوشی کرنے والوں اور تمباکو کی مصنوعات کی فروخت میں ملوث افراد کو بھاری جرمانے بھی عائد کیے جا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ اگر بھوٹان جائیں تو مخصوص رسید کے بغیر سگریٹ نوشی پر آپ کو جیل بھی جانا پڑ سکتا ہے۔ ٹوبیکو کنٹرول کے تحت یہ قانون وہاں جون 2010ء میں منظور کیا گیا تھا اور بھوٹان نارکوٹکس کنٹرول ایجنسی اس کے نفاذ کی ذمہ دار ہے۔

اس ایجنسی کے ساتھ لیگل آفیسر کے طور پر کام کرنے والی سونم شیرنگ کا کہنا ہے کے شہری یا غیر ملکی، کوئی بھی تمباکو کی مصنوعات استعمال کرنا چاہے، تو اس کے لیے کسٹم حکام سے ایک رسید حاصل کرنا ہوگی، جو غیرملکیوں کو بھوٹان میں داخل ہوتے ہوئے ایئرپورٹ سے مل سکتی ہے۔ سگریٹ نوشی کرنے پر حکومتی اہلکاروں کے استفسار پر یہ رسید دکھانا ہو گی۔ سونم کہتی ہیں کہ رسید نہ ہونے کی صورت میں مقدمہ قائم کیا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں خلاف ورزی کرنے والے کو ایک سال سے پانچ سال تک کی سزائے قید ہو سکتی ہے۔

تاہم یکم جنوری سے ابھی تک اس قانون کے تحت کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ حکام نے ایک جائزے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک کی بالغ آبادی کی اکثریت نے اس قانون کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ خیال رہے کہ بھوٹان میں بدھ مت کے پیروکار اکثریت میں ہیں اور بیشتر لوگوں کا ماننا ہے کہ مذہبی اور ثقافتی نقطہ نظر سے سگریٹ نوشی دماغ اور جسم کے لیے نقصان دہ ہے۔

Bhutan, Buddhistische Mönche

بھوٹان میں اکثریتی آبادی بدھ مت کے پیروکاروں کی ہے

تاہم بھوٹان کے عوام میں سے سب ہی اس پر خوش نہیں ہیں۔ بعض لوگ اسے معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دے رہے۔ اور کچھ ایسے بھی ہیں جو اس قانون کو سگریٹ نوشوں سے ناانصافی قرار دے رہے ہیں۔

دوسری جانب بلیک مارکیٹ میں تمباکو کی مصنوعات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ سگریٹ نوشی کرنے والوں کا کہنا ہے کہ بھوٹان میں سگریٹ کا حصول تقریباﹰ ناممکن بن گیا ہے۔ ایسے ہی ایک شخص نے بتایا کہ ڈیلر سگریٹ بیچنا ہی نہیں چاہتے کیونکہ اس میں خطرہ ہے۔

سگریٹ نوشی کرنے والے ایک دوسرے شخص کا کہنا ہے کہ پہلے وہ ایک پیکٹ سے زائد سگریٹ پی جایا کرتا تھا جبکہ اب اسے ایک یا دو سگریٹ پر گزارہ کرنا پڑتا ہے۔

دوسری جانب صارفین کو ذاتی استعمال کے لیے کسی حد تک سگریٹ یا ایسی دیگر مصنوعات درآمد کرنے کی اجازت ہے۔ ہر شخص ایک ماہ کے لیے 200 سگریٹ یا 30 سگار لا سکتا ہے۔ تاہم ان کی عمر کم از کم 18سال ہونی چاہیے۔ اس پر انہیں 200 فیصد ٹیکس بھی دینا پڑتا ہے۔

رپورٹ: شیرپم شیرپا/ندیم گِل

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس