1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

خاکوں کا متنازعہ مقابلہ: پاکستان میں فیس بک پر پابندی

پیغمبر اسلام کے خاکوں کے ایک متنازعہ مقابلے کی وجہ سے پاکستان میں مقبول ترین سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ فیس بک پر پابندی لگا دی گئی ہے ۔ لاہور ہائیکورٹ نے بدھ کو حکم دیا کہ یہ ویب سائٹ اس ماہ کے آخر تک بند رکھی جائے۔

default

اسلام پسند وکلا کی ایک تنظیم اسلامک لائیرز موومنٹ نے عدالتِ عالیہ میں ایک درخواست دائر کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ فیس بک پر پیغمبر اسلام کے حوالے سے خاکے بنانے کا ایک مقابلہ منعقد کیا جا رہا ہے جو کہ پاکستان کے مسلمانوں کیلئے دل آزاری کا باعث ہے اس لئے اس ویب سائٹ پابندی عائد کی جائے۔

بدھ کے روز اس درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس اعجاز چوہدری نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو ہدایت جاری کی کہ پاکستان میں فیس بک پر31 مئی 2010تک پابند ی عائد کر دی جائے ۔

عدالت نے حکومت پاکستان اورمحکمہ مواصلات کو یہ ہدایت بھی کی کہ وہ 31 مئی تک عدالت میں تحریری جواب جاری کریں کہ انہوں نے متنازعہ خاکوں کےمقابلے کی ویب سائٹ کو پاکستان میں رسائی نہ دینے کے حوالے سے کیا اقدامات کیے ہیں۔

اس موقعے پر دلائل دیتے ہوئے اسلامک لائرز فورم کے وکیل چوہدری ذوالفقارعلی کا کہنا تھا کہ متنازعہ خاکوں کے مقابلے کی وجہ سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہو رہے ہیں انہوں نے حوالہ دیا کہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سمیت کئی اسلامک ممالک نے فیس بک پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اس موقع پرعدالت سے باہر دینی طالب علموں، مذہبی رہنماوں، شہریوں اور وکیلوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

پیغمبراسلام کے خاکوں کےمجوزہ مقابلے کے خلاف بدھ کے روزملک کے کئی علاقوں کی طرح لاہور میں منصورہ، پریس کلب، لاہور ہائیکورٹ، پنجاب یونیورسٹی اور لبرٹی چوک کے باہر احتجاجی مظاہرے بھی کئے گئے۔

ادھر اسلام آباد میں سویڈیش سفارت خانے کو عارضی طور پر بند کرنے کی اطلاعات بھی ہیں جبکہ کئی غیر ملکی سفارت کاروں کی سیکورٹی میں اضافہ بھی کر دیا گیا ہے۔

پاکستان کالج آف لاء کے پرنسپل ہمایوں احسان نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ متنازعہ خاکوں کے اس مقابلے سے بین المذاہب ہم آہنگی قائم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔ ان کے مطابق اگرچہ مغرب میں آزادی اظہار کو بہت اہمیت دی جاتی ہے تا ہم ان کے خیال میں آزادی اور ذمہ داری دونوں کو ملحوظ خاطر رکھنے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ: تنویر شہزاد

ادارت: عدنان اسحاق