1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

خاندان منقسم نہ کرو، پاکستانی خواتین کا احتجاج

اف‍غان مہاجرین سے شادی کرنے والی پاکستانی خواتین احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئی ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ان کے افغان شوہروں کو ملک بدر کرنے کے بجائے پاکستان کی شہریت دی جائے۔

یہ خواتین احتجاج کے دوران اپنے بچے بھی ساتھ لائی تھیں۔ ان کا موقف ہے کہ ان کے شوہر افغانستان سے ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے، کئی سال قبل ان کی شادی ہوئی اور اب ان کے بچے بھی جوان ہیں۔ یہ بچے پاکستان میں پیدا ہوئے اور یہاں کے اداروں میں زیر تعلیم ہیں۔ پیر کے دن احتجاج کرنے کے بعد آج بروز منگل کچھ خواتین نے پیریس کلب میں صحافیوں سے بھی بات چیت کی۔

احتجاج کرنے والوں میں شامل رضیہ نامی خاتون نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’زیادہ تر پاکستانی خواتین کے افغان شوہروں کو گرفتار کروا کے افغانستان منتقل کیا گیا ہے جبکہ پاکستانی خواتین کی اکثریت اپنے شوہروں کے ساتھ افغانستان جانے کے لیے تیار نہیں اور یہی حال ان بچوں کا بھی ہے، جو پاکستان میں پیدا ہوئے اور یہاں جوان ہوئے، وہ اور ان کے بچے کبھی افغانستان نہیں گئے اور نہ اب افغانستان جانے کے لیے تیار ہیں۔‘‘

سال رواں کے دوران خیبر پختونخوا میں رہائش پذیر غیر قانونی افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاون کے دوران ہزاروں افراد کو چودہ فارن ایکٹ کے قانونی کے تحت گرفتار کرکے ملک بدر کیا گیا جبکہ مختلف علاقوں میں اب بھی غیر قانونی رہائش پذیر افغان مہاجرین کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔

اس احتجاج میں شریک انور بی بی کا کہنا تھا، ’’میں پاکستانی ہوں لیکن میں نے افغان شہری سے شادی کی۔ میرا شوہر افغان ہے لیکن ان کی پیدائش پاکستان میں ہی ہوئی تھی۔ انہیں افغانستان بھیج دیا گیا ہے لیکن ہمارے بچے وہاں جانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈوان سے ہم جیسے خواتین ایک اذیت میں مبتلا ہیں۔‘‘ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جن افغان شہریوں نے پاکستانی خواتین سے شادی کی اور جن کے بچے یہاں پیدا ہوئے انہیں پاکستانی شہریت دی جائے۔ انور بی بی کا کہنا تھا کہ اگر بھارت سے ہجرت کرنے والوں کو شہریت دی جاسکتی ہے تو افغانوں کو یہ حق دینے میں کیا مشکل ہے۔‘‘

کئی افغان شہری اپنے ساتھ اپنے بچے بھی لے کر گئے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی پاکستانی بیویاں سراپا احتجاج ہیں۔ اس احتجاج میں شریک شمیم بانو کا کہنا تھا، ’’ان کے افغان شوہر ان کے بیٹے کو بھی ساتھ لے گئے ہیں۔ حکومتی پالیسی کی وجہ سے ہمارا خاندان دو ممالک میں تقسیم ہو گیا ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے افغان شوہر کا خاندان کئی عشروں سے پشاور میں رہائش پذیر تھا۔ ایسے میں دونوں خاندانوں کے آپس میں رشتے ہوئے، جسے اب حکومتی پالیسی کی وجہ سے نقصان پہنچ رہا ہے۔‘‘

مظاہرین کا کہنا تھا کہ درجنوں افغان گرفتاری کے بعد جیلوں میں بھی بند کر دیے گئے ہیں جبکہ افغان حکومتی اداروں نے بھی اس سنگین مسئلے پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ مظاہرین کے مطابق افغان مردوں کو گرفتار کرکے ملک بدر کرنے کے بعد کئی خاندان معاشی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔

Pakistan Peschawar UNHCR Flüchtlingslager Kinder

کئی افغان شہری اپنے ساتھ اپنے بچے بھی لے کر گئے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی پاکستانی بیویاں سراپا احتجاج ہیں

افغان مہاجرین سے شادی کرنے والی زیادہ تر پاکستانی خواتین نے شناختی کارڈ یا دیگر سفری دستاویزات بھی نہیں بنوائے ہیں جب کہ وہ افغانستان جانے کے بعد خود کو غیر محفوظ تصور کرتی ہیں۔ پاکستانی خاتون شازیہ بی بی کا کہنا تھا، ’’میرے شوہر کو گرفتار کرکے افغانستان منتقل کیا گیا ہے، جہاں وہ بے روزگار ہیں۔ وہ اب بچو‌ں کو بھیجنے کے لیے زور دے رہے لیکن ہمارے بچے افغانستان جانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ہمارے بچے یہاں پڑھ رہے ہیں۔ افغانستان میں بنیادی اور تعلیمی سہولیات نہیں۔ ہم دونوں ممالک کے سربراہان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس مسئلے کا پائیدار حل نکالا جائے۔‘‘

پاکستان خواتین کے افغان شوہروں کا مؤقف جانے کے لیے جب افغان شہری عبداللہ سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا، ’’یہاں پاکستانی اور افغان خواتین سہولتوں کی عادی ہو چکی ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ افغانستان جا کر مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنا ہوگا، پانی باہر سے لانا پڑے گا جبکہ کھانا پکانے کے لیے لکڑی بھی کھیتوں سے لانا ہو گی لیکن یہاں تو سب کچھ آسانی سے مل جاتا ہے۔ ہم مردوں نے تو مزدوری کرنا ہے خواہ پاکستان ہو یا افغانستان لیکن خواتین سہولیات چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔‘‘

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے ترجمان کے مطابق افغان مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی کے دوران سال رواں کے دوران ایک لاکھ افغان مہاجرین واپس وطن جاچکے ہیں، جن میں سب سے زیادہ یعنی ستر ہزار کا تعلق پختونخوا سے تھا۔ رضاکارانہ واپس جانے والوں کو دو سو سے چار سو ڈالر فی کس نقد امداد اور اشیائے ضرورت فراہم کی جاتی ہے۔

DW.COM