1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

خاندانی سیاست پاکستان کے لیے ٹھیک نہیں، فاطمہ بھٹو

پاکستانی مصنفہ فاطمہ بھٹو نے خاندانی سیاست کو اپنے ملک کے لیے مضر قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سیاست سے گزشتہ تیس برسوں میں کوئی ترقی پسند پیش رفت نہیں ہوئی۔

default

فاطمہ بھٹو

بھارت میں کیرالہ کے علاقے تھیرووننتھاپرم میں جمعہ کو صحافیوں سے گفتگو میں فاطمہ بھٹو نے کہا کہ بھٹو خاندان کے لیے یہ اہم ہے کہ وہ سیاست سے دُور رہے۔

بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق سابق پاکستانی وزیر اعظم ذوالفقار بھٹو کی پوتی اور بے نظیر بھٹو کی بھتیجی فاطمہ بھٹو نے کہا کہ وہ سیاست کے میدان میں داخل نہیں ہونا چاہتیں بلکہ مصنفہ کے طور پر اپنی شناخت چاہتی ہیں۔

انہوں نے کہا: ’’یہ سوال کہ میں سیاستدان کیوں نہیں بنی بالکل ایسا ہی جیسے میں دانتوں کی ڈاکٹر کیوں نہیں بنی۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ نظم و نسق ناکام ہے لیکن وہ پاکستان کو ’ناکام ریاست‘ قرار دیے جانے کی بات نہیں مانتیں۔ فاطمہ بھٹو نے کہا: ’’پاکستانی کوئی چھوٹی یا ناکام ریاست نہیں ہے۔ لیکن وہاں نظم و نسق کا نظام ناکام ہے، جس کا پاکستان کے عوام سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ’’پاکستان کے عوام سو فیصد جمہوریت کی خواہش رکھتے ہیں اور وہاں منصفانہ انتخابات ہونے چاہئیں۔

Benazir Bhutto

بے نظیر بھٹو

فاطمہ بھٹو دو روزہ ادبی میلے Kovalam میں شرکت کے لیے کیرالہ میں موجود ہیں۔ انتیس سالہ فاطمہ اب تک تین کتابیں تحریر کر چکی ہیں، جن میں نظموں کے مجموعے  ’وسپرز آف ڈیزرٹ‘ (صحرا کی سرگوشیاں) اور ’سونگز آف بلڈ اینڈ سورڈ‘ (خون و تلوار کے نغمے) بھی ہیں۔

فاطمہ بھٹو نے اپنی پھوپھی بے نظیر بھٹو کے حوالے سے کہا کہ ان کے سیاست میں داخل ہونے سے پہلے، ان کے بارے میں وہ اچھی یادیں رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’وہ ایک جرأت مند خاتون تھیں، جو کچھ قدروں اور معیارات کے لیے کھڑی ہوئیں۔‘‘

پاکستان کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو ستائیس دسمبر دوہزار سات کو راولپنڈی میں ایک حملے میں ہو گئیں تھیں۔ اس وقت پاکستان میں انہیں کی جماعت حکومت میں ہے۔

 

رپورٹ: ندیم گِل / پی ٹی آئی

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس