1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان

عالمی مالیاتی بحران کے بعد ترقی یافتہ ملکوں میں تیل کی کھپت میں کمی کا راجحان جاری ہے اور اِس کے باعث عالمی منڈیوں میں خام تیل کے ایک بیرل کی قیمت مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے جس سے اوپیک ملکوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔

default

فرانسیسی مالی منڈی میں تیل کی گرتی قیمتوں کا گراف

عالمی مالیاتی بحران کے نتیجے میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران تیل کی قیمتوں میں کمی 70 فیصد سے زائد ہو چکی ہے جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔ اس طرح تیل برآمد کرنے والے امیر ممالک کے اقتصادی حالات کا توازن بھی بگڑ گیا۔ یہی وجہ ہے کہ قیمتوں کو سابقہ سطح پر لانے کے لیے ان ممالک نے تیل کی یومیہ پیداوار میں ریکارڈ کمی کا فیصلہ کیا ہے۔

OPEC Aussenansicht des Hauptquartiers der Organisation Erdöl exportierender Länder

یورپیی ملک آسٹریا کے دارالحکومت وی آنا میں اوپیک ملکوں کی تنظیم کا صدر دفتر

تیل پیدا کرنے والے بیشتر ممالک کی معشیت کا انحصار تیل کی برآمدات پر ہے۔ اس حوالے سے نائجیریا، ایکواڈور اور وینزولا کے قومی خزانوں پر رواں سال جولائی سے اس وقت دباؤ بڑھنا شروع ہوا جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 147 ڈالر فی بیرل کی سطح سے نیچے آنا شروع ہوئیں۔ اب صورت حال یہ ہے کہ خام تیل تقریبا چالیس ڈالر فی بیرل سے بھی کم سطح پر ریکارڈ کی گئی۔

ان حالات میں تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک نے اپنی تیل کی مجموعی یومیہ پیداوار میں 2.2 ملین بیرل کمی کا فیصلہ کیا ہے۔ اوپیک کے وزرائے تیل نے یہ فیصلہ بدھ کے روز الجزائر کے شہر Oran میں منعقدہ اجلاس میں کیا جس کا مقصد قیمتوں میں استحکام لانا تھا۔

اس سے قبل اوپیک نے ستمبر میں بھی تیل کی یومیہ پیداور میں پانچ لاکھ بیرل جبکہ گزشتہ ماہ 1.5 ملین بیرل کمی کا فیصلہ کیا تھا۔ اس طرح گزشتہ چار ماہ میں اوپیک ریاستوں نے تیل کی یومیہ پیداوار میں 4.2 ملین بیرل کی کمی کر دی۔

Symbolbild Preis für Öl steigt auf neue Rekordhöhe

ترقی یافتہ خاص طور سے امریکہ میں تیل کی کھپت میں کمی کا رجحان سامنے ہے۔

اجلاس سے قبل Oran پہنچنے پر سعودی عرب کے وزیر تیل علی النُعیمی نے صحافیوں سے گفتگو میں یہ اشارہ دیا تھا کہ اوپیک کے تمام رکن ممالک تیل کی یومیہ پیداوار میں دو ملین بیرل کی کمی پر تیار ہیںِ۔ اگرچہ اس تنظیم کے غیر رکن ممالک روس اور آذربائیجان نے بھی اپنی یومیہ پیداوار میں چھ لاکھ بیرل کی کمی پر رضامندی ظاہر کی تھی لیکن اوپیک کا اجلاس ختم ہونے سے قبل ہی روس نے اپنی یومیہ پیداوار میں کمی نہ کرنے کا اعلان کر دیا۔ تاہم یہ دونوں ممالک اجلاس میں شریک تھے۔

قبل ازیں اوپیک نے تیل برآمد کرنے والے غیررکن ممالک سے اپیل کی تھی کہ وہ عالمی منڈی کا توازن بحال کرنے میں ان کی مدد کریں جبکہ منگل کے روز اوپیک کے سیکریٹری جنرل عبداللہ سالیم ایل بدری نے کہا تھا کہ وہ غیر رکن ممالک کی جانب سے تیل کی پیداوار میں پانچ سے چھ لاکھ بیرل کی یومیہ کمی چاہتے ہیں۔

اوپیک کی موجودہ یومیہ پیداوار 27.3 ملین بیرل ہے جبکہ ان ممالک نے اپنی مجموعی پیداوار کا سات فیصد کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

عالمی مارکیٹ میں تیل کے تاجروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں اوپیک کی جانب سے یومیہ پیداوار میں کمی پہلے سے ہی متوقع تھی۔