1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

خالد شیخ محمّد کا مقدمہ گوانتانامو میں

امریکی اٹارنی جنرل نےکہا ہے کہ ستمبر دو ہزار گیارہ کے دہشت گردانہ حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد اور اس کے چار ساتھیوں کا مقدمہ امریکی کرمنل کورٹ کے بجائے گوانتانامو بے کی ایک عدالت میں چلے گا۔

default

خالد شیخ محمّد کو سن دوہ زار تین میں پاکستان سے گرفتار کیا گیا تھا

امریکی اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے امریکی قانون سازوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قانون دانوں کی جانب سے نائن الیون کے ملزموں کے امریکی کرمنل کورٹ میں مقدمے کی فنڈنگ کو روک دیے جانے کی وجہ سے فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جانا پڑے گا۔

ایرک ہولڈر کی جانب سے اس اعلان کو امریکی صد باراک اوباما کی انتظامیہ کے لیے ایک شدید سیاسی دھچکہ قرار دیا جا رہا ہے جوکہ خالد شیخ محمّد اور اس کے ساتھیوں کا مقدمہ امریکہ کی کرمنل کورٹ میں چلانا چاہتے تھے۔ امریکی صدر نے گوانتانامو کی جیل کے بجائے امریکی عدالت میں مقدمہ چلانے کا اعلان نومبر دو ہزار نو میں کیا تھا۔

US-Lager Guantánamo

امریکی صدر اوباما نے گوانتانمو کی متنازعہ امریکی جیل کو بند کرنے کا وعدہ کیا تھا

اس فیصلے سے ثابت ہوا ہے کہ امریکی صدر کوگوانتانامو بے کی متنازعہ جیل کو بند کرنے اور وہاں مقیّد قیدیوں کا مقدمہ امریکی عدالتوں میں چلانے کے حوالے سے اپنے ارادے کو ترک کرنا پڑے گا۔ یہ امریکی صدر اوباما کا دو ہزار آٹھ کی صدارتی مہم کے دوران ایک اہم وعدہ تھا۔ اوباما کو ان کی حریف رپبلکن پارٹی کی جانب سے اس فیصلے کو منظور کروانے میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

گوانتاناموکی جیل میں اس وقت ایک سو بہتر قیدی موجود ہیں۔ جب اوباما نے اقتدار سنبھالا تھا تو ان کی تعداد دو سو پینتالیس تھی۔ قدامت پسند حلقوں اور رپبلکن پارٹی کے اراکین اور حامیوں نے نائن الیون کے ملزمین کا مقدمہ گوانتانامو کی فوجی عدالتوں میں چلائے جانے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

امریکی اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر کانگریس کی مخالفت کے باوجود سمجھتے ہیں کہ نو گیارہ کے ملزمین کا مقدمہ امریکی عدالت میں زیادہ بہتر طور پر چلایا جاسکتا تھا۔ امریکہ میں ستمبر دو ہزار ایک کے دہشت گردانہ حملوں میں تقریباً تین  ہزار افراد کو جان سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔ خالد شیخ محمّد کو سن دو ہزار تین میں پاکستان سےگرفتار گیا تھا۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM