1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’خالد شیخ محمد پر مقدمہ کہاں چلایا جائے گا؟‘

امریکی حکام کے مطابق اوباما انتظامیہ اس فیصلے کے قریب پہنچ گئی ہے کہ امریکہ پر 11ستمبر 2001ء کے دہشت گردانہ حملوں کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد پر مقدمہ کیسے چلایا جائے۔ تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

default

خالد شیخ محمد

امریکی اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے بدھ کو سرحدی سکیورٹی امور پر کینیڈا کے حکام سے ملاقات کی، جس کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا، ’یہ عمل جاری ہے، یہ مقدمہ کہاں چلایا جائے گا، اس کے لئے مقام کے تعین پر غور کیا جا رہا ہے۔‘

قبل ازیں خالد شیخ محمد اور دیگر چار ملزمان کو نیویارک کی ایک وفاقی عدالت میں پیش کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا گیا تھا۔ تاہم نیویارک کے حکام اور بعض سینیٹروں نے سکیورٹی خدشات اور دیگر وجوہات کی بناء پر خالد شیخ پر عسکری عدالت میں مقدمہ چلانے پر زور دیا تھا، جس کے بعد نیویارک کی سماعت کا معاملہ جمود کا شکار ہو گیا تھا۔

تاہم اب ایرک ہولڈر کا کہنا ہے، ’ہم اس معاملے پر کافی عرصے سے کام کر رہے ہیں اور میرا خیال ہے کہ ہم حتمی فیصلے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔‘

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق جب ایرک ہولڈر سے پوچھا گیا کہ کیا یہ فیصلہ رواں برس کے آخر تک ہوجائے گا، تو انہوں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔

China USA Justizminister Eric Holder in Peking

امریکی اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر

تقریباً ایک سال پہلے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ خالد شیخ پر مقدمہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے مقام سے کچھ ہی دور واقع فوجداری عدالت میں چلایا جائے گا۔ تاہم یہ منصوبہ سکیورٹی خدشات اور ان شکایات پر ناکام ہو گیا کہ مشتبہ افراد کو امریکی قانون میں شامل پورے حقوق نہیں دئے جانے چاہئیں۔

خالد شیخ محمد دہشت گرد تنظیم القاعدہ کا رہنما ہے۔ اسے 2003ء میں پاکستان سے گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد اسے کیوبا میں امریکہ کے زیرانتظام قائم گوآنتاناموبے کے حراستی کیمپ میں رکھا گیا۔ امریکی کانگریس نے وہاں سے خالد شیخ جیسے قیدیوں کی منتقلی کو سختی سے محدود بنا رکھا ہے اور اس کے لئے کانگریس کو پیشگی اطلاع دینا ضروری ہے، جس کے ساتھ ممکنہ سکیورٹی خدشات سے آگاہ کرنے کی شرط بھی شامل ہے۔

اب حالیہ وسط مدتی انتخابات کے بعد امریکی ایوان نمائندگان میں ریپبلیکنز کو حکمران ڈیموکریٹس پر برتری حاصل ہو چکی ہے، اور وہ گوآنتانامو بے پر قید مشتبہ دہشت گردوں پر روایتی فوجداری عدالتوں میں مقدمات چلانے کے اوباما انتظامیہ کے منصوبے کو مشکل بنا سکتے ہیں۔

رپبلیکنز پہلے ہی مطالبہ کرچکے ہیں کہ گوآنتانامو بے کے حراستی کیمپ میں قید مشتبہ دہشت گردوں پر مقدمات عسکری عدالتوں میں چلائے جائیں، جس سے ان کے لئے قانونی حقوق محدود ہو جاتے ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس