1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

خالدہ ضیاء کے خلاف بدعنوانی کا مقدمہ، بنگلہ دیش میں مظاہرے

بنگلہ دیش میں سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے خلاف ملک کے انسداد بدعنوانی کے کمیشن کی طرف سے کرپشن کے الزامات کے تحت مقدمہ قائم کیے جانے کے بعد ملک بھر میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

default

بنگلہ دیش کے اینٹی کرپشن کمیشن نے خالدہ ضیا پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے ایک ٹرسٹ کے نام پر زمین خریدی جبکہ اس ٹرسٹ کے اثاثے ظاہر نہیں کیے گئے تھے۔

بنگلہ دیش میں گزشتہ دو دہائیوں سے مسلسل شیخ حسینہ واجد اور خالدہ ضیا کی جماعتیں یکے بعد دیگرے اقتدار حاصل کرتی رہی ہیں۔ انہی دونوں جماعتوں کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی اور ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ برسوں سے جاری ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں، جب اقتدار میں آنے کے بعد ان میں سے کسی ایک جماعت نے دوسری جماعت کے خلاف اس طرح کے مقدمات قائم کیے ہوں۔

Bangladesch Proteste Textilarbeiter Dezember 2010 Flash-Galerie

بنگلہ دیش میں گزشتہ ایک ماہ سے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے

تاہم شیخ حسینہ واجد کی عوامی لیگ کے سن 2009ء میں برسراقتدار آنے کے بعد یہ پہلا موقع ہے، جب اپوزیشن لیڈر خالدہ ضیاء کے خلاف کرپشن کے الزامات کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔ خالدہ ضیاء کے دورحکومت میں خود حسینہ واجد بھی کرپشن کے متعدد مقدمات کا سامنا کرتی رہی ہیں۔

بنگلہ دیش میں گزشتہ ایک ماہ سے جاری حکومت مخالف مظاہروں کے بعد خالدہ ضیاء پر بدعنوانی کے الزامات کے تحت ایسے مقدمے کو بھی ایک سیاسی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ملک میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے باعث بنگلہ دیشی معیشت کو نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کا سیاسی فائدہ اپوزیشن کو ہو سکتا ہے۔ ملک میں جاری ان احتجاجی مظاہروں کی وجہ عوامی لیگ کی جانب سے سن 2013ء میں مجوزہ عام انتخابات کے حوالے سے ملکی دستور میں اصلاحات ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے قدرتی گیس کی تلاش کے حوالے سے ’کونوکو فلپس‘ نامی کمپنی سے کیا گیا معاہدہ بھی عوامی تنقید کا شکار ہے۔

واضح رہے کہ فوجی دور حکومت میں انسداد بدعنوانی کے اس کمیشن کو سیاسی جماعتوں کے خلاف مقدمات قائم کرنے کے لیے بھی استعمال کیا گیا تھا، یہی وجہ ہے کہ عوام میں اس کمیشن کی مقبولیت خاصی کم ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس