1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

خالدہ ضیاء کی درخواستِ ضمانت منظور

بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے سابق وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر خالدہ ضیاء کے عدالت میں پیش ہو کر درخواست جمع کرنے کے بعد انہیں ضمانت پر رہائی دے دی ہے۔

خالدہ ضیاء کے وکیل نے بتایا کہ عدالت نے ایک بس پر خون ریز فائر بم حملے کے تناظر میں ان کے مؤکل کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

70 سالہ خالدہ ضیاء کو ضمانت پر رہائی اس وقت دی گئی، جب وہ عدالت میں حاضر ہوئیں۔ اس موقع پر ان کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی BNP کے قریب پانچ ہزار حامی بھی عدالت کی عمارت کے باہر جمع ہو گئے اور حکومت مخالف نعرے بازی کی۔

اس سے قبل بی این پی نے دھمکی دی تھی کہ اگر خالدہ ضیاء کو حراست میں لیا گیا، تو وہ ملک بھر میں حکومت مخالف مظاہرے شروع کر دی گی۔ گزشتہ برس جنوری میں بھی بنگلہ دیش کی اس سب سے بڑی اپوزیشن جماعت نے ملک بھر میں بڑے مظاہرے کیے تھے۔

Proteste in Dhaka Bangladesch 24.12.2014

گزشتہ برس حکومت مخالف مظاہروں نے پرتشدد رنگ اختیار کر لیا تھا

وکیل صفائی مسعود احمد تلُکدر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ’’وہ (خالدہ ضیاء) عدالت میں پیش ہوئیں اور انہیں مقدمے میں املاک کو نقصان پہنچانے کے فوج داری مقدمے میں ضمانت پر رہائی دے دی گئی۔ اس موقع پر انہیں دیگر چار مقدمات میں بھی ضمانت دے دی گئی ہے۔‘‘

واضح رہے کہ تشدد کو ہوا دینے کے علاوہ خالدہ ضیاء پر بدعنوانی کے بھی مقدمات دائر ہیں۔

گزشتہ ہفتے ڈھاکا مجسٹریٹ کورٹ نے ضیاء کے خلاف تشدد کو ہوا دینے کے ایک مقدمے میں وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے تھے۔ ایک بس پر بم حملے کے اس واقعے میں دو افراد ہلاک جب کہ متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

یہ واقعہ گزشتہ برس اس وقت پیش آیا تھا، جب خالدہ ضیاء نے پہیاجام ہڑتال کی کال دیتے ہوئے وزیراعظم حسینہ واجد پر استعفے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تھی، تاکہ ملک میں نئے انتخابات کا انعقاد عمل میں آ سکے۔

اس حکومت مخالف تحریک نے بعد میں تشدد کا رنگ اختیار کر لیا، جس میں مجموعی طور پر 120 افراد ہلاک ہوئے، جب کہ اپوزیشن سے وابستہ افراد نے سینکڑوں بسوں اور ٹرکوں کو فائربموں سے نشانہ بنایا۔ اس دوران چند مواقع پر پولیس کی جانب سے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کے واقعات بھی پیش آئے۔

خالدہ ضیاء کی جانب سے متنازعہ انتخابات کا ایک برس مکمل ہونے پر ملک بھر میں حکومت مخالف مظاہروں کی دھمکی کے بعد انتظامیہ نے انہیں ان کے گھر ہی میں نظربند کر دیا تھا۔

وزیراعظم حسینہ واجد بھی واضح طور پر کہہ چکی ہیں کہ تشدد میں ملوث اپوزیشن رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف مقدمات چلائے جائیں گے۔ ان مظاہروں کے بعد بی این پی کے درجنوں رہنماؤں اور قریب 15 ہزار حامیوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔