1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

خاتون صحافی کئی ماہ سے غائب

خاتون صحافی زینت شہزادی کو قریب نو ماہ قبل دن دہاڑے لاہور سے اغوا کر لیا گیا تھا، آج بھی اس کے اہل خانہ زینت شہزادی کے منتظر ہیں۔

متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والی زینت شہزادی اپنے گھر کی واحد کفیل تھی۔ زینت شہزادی کے اغوا ہونے کی کہانی میں ایک انتہائی تکلیف دے عنصر یہ بھی ہے کہ چند ماہ قبل اس کے بھائی نے اپنی بہن کی طویل گمشدگی سے دلبرداشتہ ہو کر خود کشی کر لی۔

زینت شہزادی کا خاندان اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی کچھ غیر سرکاری تنظیمیں پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیوں کو زینت شہزادی کے اغوا کا ذمہ دارقرار دیتے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے زینت شہزادی کی والدہ کا کہنا تھا، ’’میرا 17 سالہ بیٹا صدام زینت کا سب سے اچھا دوست تھا، وہ بہن کی گمشدگی کا غم برداشت نہ کرسکا، اب میں کبھی اپنے بیٹے کو یاد کرتی ہوں اور کبھی اپنی بیٹی کو یاد کر کے روتی ہوں۔‘‘

پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیمیں اور میڈیا سے وابسطہ کئی صحافی زینت شہزادی کے اہل خانہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کررہے ہیں اور ساتھ ہی مطالبہ کر رہے ہیں کہ جلد از جلد زینت کے اہل خانہ کو ان کی بیٹی کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں۔ صحافی مطیع اللہ جان کا کہنا ہے، ’’ سپریم کورٹ اور مسنگ پرسنز کمیشن اب تک زینیت شہزادی کے لیے کچھ نہیں کر سکے۔‘‘

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سکریٹری جنرل آئی اے رحمان نے زینت کی گمشدگی کے بارے میں پاکستان کے انگریزی اخبار ڈان میں اپنے ایک کالم میں اس کیس کی تفصیلات بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ زینت شہزادی ایک بھارتی شہری حامد انصاری کے کیس سے منسلک ہو گئی تھی۔ حامد انصاری کو افغانستان سے پاکستان غیر قانونی طور پر داخل ہونے پر نومبر 2012ء میں کوہاٹ کے ایک ہوٹل سے پولیس ایس ایچ او نے گرفتار کر لیا تھا جس کے بعد اسے ایک سکیورٹی ایجنسی کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ آئی اے رحمان لکھتے ہیں کہ یہ معلوم نہیں ہے کہ کیوں زینت نے حامد انصاری کے کیس میں دلچسپی لینا شروع کی تاہم اگست 2013ء میں اس نے حامد انصاری کی والدہ فوزیہ انصاری سے خصوصی پاور آف اٹارنی لے لی تھی اور اس نے پشاور ہائی کورٹ اور جبری گمشدگیوں کے کمیشن میں اس کا کیس چلانا شروع کیا۔

زینت نے جبری گمشدگیوں کے کمیشن کے سامنے 21 اگست 2015 کو پیش ہونا تھا اور اس سے دو روز قبل 19 اگست 2015ء کو اسے اس کے گھر کے قریب سے اغوا کر لیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ پاکستان میں اب بھی سیکنڑوں افراد لاپتہ ہیں جن کے اہل خانہ اپنے پیاروں کے منتظر ہیں۔

DW.COM