1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’حیض کے پہلے دن خواتین کی چُھٹی ہونی چاہیے‘

بھارت کی ایک ڈیجیٹل میڈیا کمپنی اپنی تمام خواتین ملازمین کو حیض کے پہلے دن چُھٹی فراہم کرتی ہے۔ یہ چُھٹی اس کمپنی کی پالیسی کا حصہ ہے اور اب حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس چُھٹی کو قانونی حیثیت فراہم کی جائے۔

ممبئی کی کمپنی کلچر مشین کا کہنا ہے کہ ان کی اس پالیسی کا مقصد خواتین کے حیض سے متعلق معاشرتی رویوں میں تبدیلی لانا ہے۔ اس کمپنی کے مطابق بھارت میں لاکھوں خواتین اور لڑکیوں کو ماہواری کی وجہ سے سماجی تعصب، شعور میں کمی کی وجہ سے صحت کے مسائل اور خود اعتمادی میں کمی کا سامنا رہتا ہے۔

اس کمپنی کی 75 خواتین ملازمین ہیں اور اس نے یہ پالیسی اعلان رواں ماہ یوٹیوب پر ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے کیا تھا۔ اس ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ملازم خواتین کمپنی کی اس پالیسی اور ’فرسٹ ڈے آف پیریڈ لِیو‘ (ایف او پی) کے بارے میں گفتگو کر رہی ہیں۔

ویڈیو میں اس کمپنی کی ہیومن ریسورسز کی سربراہ خاتون دیولینا ایس ماجھومدار کہتی ہیں، ’’زیادہ تر کے لیے پہلا دن آسان نہیں ہوتا۔ ہم نے محسوس کیا ہے کہ ہمیں اس وقت اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے، یہ کوئی شرمندگی کی بات نہیں ہے، یہ زندگی کا حصہ ہے۔‘‘

دوران حیض گھر سے بے دخلی ایک لڑکی کی جان لے گئی

تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کے مطابق بھارت میں سماجی عقائد کی وجہ سے خواتین کے حیض کے بارے میں کم سے کم بات کی جاتی ہے اور ان مخصوص ایام کے دوران خواتین کو ناپاک تصور کرتے ہوئے ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر انہیں مینسز کے دوران بعض اوقات الگ تھلگ اور مخصوص مقامات تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ انہیں مخصوص پھلوں یا سبزیوں کو ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں ہوتی، انہیں مندروں میں جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔

ویڈیو پوسٹ ہونے کے بعد سے اس کو ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد دیکھ چکے ہیں۔ اس ویڈیو میں خواتین ملازمین یہ بتاتی ہیں کہ انہیں اس حوالے سے کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک خاتون ملازم اس حوالے سے مرد سربراہان کو مخاطب کرتے ہوئے کہتی ہیں، ’’کبھی کبھار آپ کو اس حوالے سے تھوڑی سی سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔‘‘

اس کمپنی نے ’’چینج ڈاٹ او آر جی‘‘ نامی ویب سائٹ پر ایک پٹیشن بھی دائر کر رکھی ہے، جس میں خواتین کے امور کی بھارتی وزیر مانیکا گاندھی اور وزیر برائے ہیومن ریسورسز پرکاش جاویدکار سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ بھی حکومتی سطح پر ایسی ہی پالیسی اختیار کریں۔ ابھی تک اس درخواست پر 25 ہزار سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں۔

DW.COM