1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حیرت ہے، کوئی سمجھتا نہیں: قذافی

لیبیا کے رہنما معمر قذافی نے فرانسیسی اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ انہیں اس بات پر حیرت ہے کہ وہ ’دہشت گردی کے خلاف‘ جنگ لڑ رہے ہیں، اور دنیا ان کی بات سمجھ نہیں پا رہی۔

default

معمر قذافی

معمر قذافی کا یہ انٹرویو اتوار کو Journal du Dimanche میں شائع ہوا ہے۔ معمر قذافی نے اپنے انٹرویو میں کہا، ’مجھے سخت حیرت ہے، کوئی سمجھنے کو تیار نہیں کہ یہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہے۔‘ انہوں نے لیبیا میں مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں پر عالمی مذمت پر بھی حیرت کا اظہار کیا۔

’ہماری سکیورٹی سروسز نے تعاون کیا۔ ہم نے گزشتہ کئی برس آپ کی بہت مدد کی، مگر اب جبکہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، تو بدلے میں کوئی ہماری مدد کرنے والا نہیں۔‘

1969ء سے لیبیا پر حکومت کرنے والے قذافی، شدید ترین عوامی مظاہروں اور باغیوں کی زبردست کارروائیوں کے باعث اب فقط طرابلس تک محدود ہو چکے ہیں اور ملک کے متعدد اہم علاقوں کا قبضہ باغی سنبھال چکے ہیں۔

قذافی کی وفادار افواج کی طرف سے عام شہریوں کے خلاف بھاری ہتھیاروں، جنگی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کے استعمال کے بعد مغربی دنیا سمیت عالمی برادری نے قذافی حکومت پر دباؤ میں اضافہ کیا، جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور یورپی یونین نے لیبیا کے خلاف پابندیوں کا اعلان کر دیا۔ قذافی اور ان کے قریبی ساتھیوں کے خلاف لیبیا میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات کے تحت بین الاقوامی فوجداری عدالت تفتیش کا آغاز بھی کرنے والی ہے۔

طرابلس میں اپنے ہیڈکوارٹرز میں صحافیوں سے بات چیت میں معمر قذافی نے کہا، ’اگر تیونس اور مصر میں جمہوریت پسندوں کے مظاہروں کی طرح، لیبیا میں بھی ’بغاوت‘ کامیاب ہو گئی، تو اسلامی انتہا پسند پورے بحیرہء روم میں جہاد کا آغاز کر دیں گے۔‘

انہوں نے کہا، ’پھر بحیرہ ء روم میں آپ کے سامنے ایک اسلامی جہاد ہو گا۔ بن لادن کے لوگ زمین اور سمندر میں لوگوں سے تاوان وصول کرنے لگیں گے۔‘

Flash-Galerie Libyen Flucht Ägypter

لیبیا میں کشیدگی کے باعث ہزاروں افراد انخلاء پر مجبور ہوئے

قذافی نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ ان کی حکومت ’بہترین کارکردگی‘ کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ انہوں نے یورپ کو خبردار کیا کہ اگر لیبیا میں ان کے ہاتھ سے اقتدار گیا، تو اس کا نتیجہ یورپ کی طرف بڑی پیمانے پر ہجرت کرنے والوں کی صورت میں نکلے گا۔

واضح رہے کہ فروری کے وسط سے لیبیا میں بڑے پیمانے پر شروع ہونے والے عوامی مظاہروں کے بعد سکیورٹی فورسز نے عام شہریوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کیا تھا۔ مظاہرین قذافی سے اقتدار چھوڑنے اور ملک میں جمہوریت کے مطالبات کر رہے ہیں، جبکہ ان مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز کی خونریز کارروائیوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس