1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

حیدرکا بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

ذوالقرنین حیدر نے بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ حیدر نے کہا ہے کہ انہیں اوران کے گھروالوں کو مسلسل دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں اور اس صورتحال میں ان کا کرکٹ کو خیرباد کہہ دینا ہی مناسب ہے۔

default

حیدر نے تصدیق کی ہے کہ انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہوئیں

دبئی میں کھیلی گئی جنوبی افریقہ کے خلاف ایک روزہ میچوں کی سیریزکے پانچویں اور فیصلہ کن میچ سے قبل دبئی سے پرسرارطور پرلندن فرار ہونے والے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپرذوالقرنین حیدر نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں میچ فکسرز سے تعاون کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

ذوالقرنین حیدر نے منگل کو بتایا ہے کہ انہیں ایک نامعلوم شخص نے اس سیریز کا چوتھا اور پانچواں میچ فکس کرنے کو کہا تھا، ’ مجھے کہا گیا تھا کہ میں تعاون کروں ورنہ دوسری صورت میں مجھے مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔‘

حیدر نے پاکستان کے نجی ٹیلی وژن 'جیو' کو بتایا ہے کہ انہیں جان سے مار دینے کی دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں لیکن اس کے باجود وہ اپنی’دھرتی ماں‘ کو نہیں بیچ سکتے،’ اپنے ملک کی عزت اور ناموس کو فروخت کرنے سے بہتر ہے میں کہیں بھاگ جاؤں۔‘

Zulqarnain Haider Cricketspieler

ذوالقرنین حیدر، پاکستانی ٹیم کے دورہ انگلینڈ کے دوران میچ فکسنگ کی خبریں منظر عام پر آنا شروع ہوئیں

ایسی خبریں بھی موصول ہو رہی ہیں کہ وہ برطانیہ میں سیاسی پناہ کے لئے درخواست دے سکتے ہیں۔ لندن پہنچنے کے بعد اپنے پہلےانٹرویو میں حیدر نے کہا کہ انہوں نے ابھی تک برطانیہ میں سیاسی پناہ کے بارے میں نہیں سوچا،’ میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ میں اپنے لئے کوئی وکیل کر سکوں، مجھے اس وقت سب سے زیادہ فکرمیرے گھر والوں کی ہے، جو لاہورمیں ہیں۔‘

ایک ٹیسٹ میچ اورچارایک روزہ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے چوبیس سالہ حیدرنے کہا ہےکہ دبئی سے پرسرارطور پر فرار ہونے پر انہیں کوئی افسوس نہیں ہے، ’ میں نے وہ کیا، جو مجھے درست محسوس ہوا۔ میں اس وقت ان باتوں کی تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا۔‘ انہوں نے تاہم کہا، ’ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ میں کسی بدعنوانی کا حصہ بنتے ہوئے اپنے ملک کے خلاف نہیں جا سکتا۔‘

ذوالقرنین حیدر نے کہا کہ وہ لندن اس لئے گئے ہیں کیونکہ انہیں یہ معلوم ہے کہ وہاں وہ محفوظ ہو جائیں گے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس