1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

حیاتیاتی تنوع ’زندگی‘ ہے

حیاتیاتی تنوع دراصل ہے کیا؟ اور سن دو ہزار دس کو اس سے منسوب کیونکر کیا گیا ہے اور کیا اس سال مطلوبہ نتائج حاصل کئے جا سکیں گے؟ یہ سوال زبان زد عام ہیں۔

default

اقوام متحدہ نے سال دو ہزار دس کو حیاتیاتی تنوع کا سال قرار دیا ہے

سن دوہزارنوکےاواخرمیں منعقد ہوئی کوپن ہیگن کانفرنس کی ناکامی کے بعد سال دو ہزار دس کو بائیو ڈائیورسٹی یعنی حیاتیاتی تنوع کا سال قرار دیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ حیاتیاتی تنوع اس کرہ ارض کو ایک خاص ترتیب میں رکھنے کے لئے انتہائی ناگزیر ہے۔ ایک سائنسی نظریہ یہ بھی ہے کہ حیاتیاتی تنوع کےخاتمے سے کرہ ارض تباہ بھی ہوسکتا ہے۔

حیاتیاتی تنوع کیا ہے؟ یہ بیان کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ شائد اسی لئے کنونشن برائے بائیولوجیکل ڈائیورسٹی کے مطابق اس نظریے کو سمجھنے کے لئے ایک گائیڈ لائن دی گئی ہے۔ آسان لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ حیاتیاتی تنوع زندگی ہے۔ انسان کے لئے آکسیجن نہایت ضرروی ہے اگر آکسیجن نہیں ہو گی تو انسان بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح جو کچھ بھی ہم کھاتے ہیں، اس کے بنیادی عناصر زمین سے اُگائے جاتے ہیں۔ اسی طرح پانی، ہوا، بادل، بارش، ندیاں، دریا، سمندر گویا تمام اشکال کائنات ایک مخصوص عمل سے گزرنے کے بعد ہم تک پہنچتی ہیں۔

حیاتیاتی تنوع اسی مخصوص عمل کو برقراررکھنے کا کام سر انجام دیتا ہے۔ قدرتی اور بشریاتی عمل کی وجہ سے جانوروں اور پودوں کی نایاب اقسام، ان کا قدرتی ماحول اور جغرافیائی محل وقوع شدید خطرے میں ہے۔ اس کرہ ارض کے نظام کو ایک خاص ترتیب میں رکھنے کے لئے یہی جاندار ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں اور یہ ختم ہو گئے تو کرہ ارض کا نظام بھی شدید طور پر متاثر ہو گا۔

رواں سال کو حیاتیاتی تنوع سے منسوب کرنے کا مقصد بھی یہ ہے کہ عوامی سطح پر آگاہی ہو سکے کہ یہی تنوع اس کرہ ارض کے لئے کتنا ضروری ہے اور اس تنوع کو محفوظ بنانے کے لئے حکومتی اور عوامی سطح پر کوشش کی جا سکے۔

Eisvogel, Vogel des Jahres

انسان ہر سال کوئی ایک لاکھ چالیس ہزار انواع کے خاتمے کا سبب بن رہا ہے

قنوطیت پسند سائنسدانوں نے گزشتہ بارہ ہزار سال کی تاریخ کو Holocene Extinction قرار دیا ہے۔ ایسے سائنسدانوں کے مطابق اس دوران انسانوں نے دیگر جانداروں کے خاتمے کے عمل کو تیز تر کر دیا۔ آج کے سائنسدانوں کے مطابق انسان ہر سال کوئی ایک لاکھ چالیس ہزار انواع کے خاتمے کا سبب بن رہا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق سن 2050ء تک اس کرہ ارض پر پائے جانے والے کل جانداروں کی تیس فیصد اقسام ناپید ہو جائیں گی۔

لیکن اس پیغام کا ابلاغ کوئی آسان کام نہیں جبکہ اس دنیا کی کل آبادی میں سے نصف شہری علاقوں میں سکونت پذیر ہے۔ شہروں میں رہائش پذیر، قدرت سے دور رہنے والے اربوں انسان ان حقائق سے ناواقف ہیں۔ سانس لیتے، کھاتے اور پیتے یہ لوگ بے خبر ہیں کہ آکسیجن، خوارک اور پانی کہاں سے آتے ہیں؟

کنوینشن برائے بائیولوجیکل ڈائیورسٹی کے ایگزیکٹو سیکریٹری Ahmed Djoghlaf کے مطابق تمام مسئلہ ہی شہروں کا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’’ہم اب زیادہ تر شہری ماحول میں رہتے ہیں، لیکن اس کی قیمت قدرت چکا رہی ہے۔ اسی لئے ہم یقین رکھتے ہیں کہ آئندہ سالوں کے دوران اس زمین پر زندگی کی بقاء کی جنگ ہم شہروں میں ہی لڑ سکتے ہیں۔‘‘

رواں سال کو حیاتیاتی تنوع کا سال قرار دینے کا مقصد عوامی آگہی تو ہے ہی لیکن اصل کام سائنسی کانفرنسوں اور سیاسی فورمز پر کیا جائے گا۔ یہ فورمز اور کانفرنسیں برلن، پیرس، بالی، نیروبی اور نیویارک میں منعقد کی جائیں گی۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ کی طرف سے منائے جانے والے یہ دن اور سال کیا اہمیت رکھتے ہیں، جب معاملہ اتنا پیچیدہ ہو کہ عوامی سطح پر سمجھا ہی نہ جا سکے۔

Bdt Eisbär mit zwei Jungtieren im Packeis in Alaska

برفانی ریچھ کی نسل بھی خطرے میں ہے

جرمنی میں تحفظ ماحول کے لئے فعال ایک ملک گیر تنظیم NABU سے منسلک ایک ماہر Magnus Wessel کہتے ہیں: ’’اہم نکتہ یہ ہے کہ کوپن ہیگن کانفرنس کے بعد جس طرح ذرائع ابلاغ میں ماحولیاتی تبدیلیوں کا معاملہ اٹھایا گیا ہے، اس سے آپ کچھ شک میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور سوال کرتے ہیں کہ اس طرح کے بین الاقوامی فورمز سے کیا حاصل کیا جا سکتا ہے، جب اختتام پر تمام سیاسی قائدین وہ نہ کریں جس کا عوام مطالبہ کرتے ہیں۔ اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ سال دو ہزار دس کو حیاتیاتی تنوع سے منسوب کرنے پر بھی لوگ شک کریں گے اور سوال اٹھائیں گے کہ آخر اس سے کیا فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔‘‘

اس سوال کا ایک معیاری جواب یہ ہو سکتا ہے کہ اگر اس طرح کے فورمز اور کانفرنسوں سے کوئی بھی فائدہ حاصل نہیں کیا جا سکتا تو کم ازکم یہ ضرور ہو گا کہ عوامی سطح پر آگہی ضرور ہو گی کہ حیاتیاتی تنوع کی حفاظت کتنی ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق ابھی تو 2010 کا آغاز ہوا ہے اور اس حوالے سے قیاس آرائیاں قبل از وقت ہیں۔ دیکھیں کہ ماحول دوست ادارے اس سال حیاتیاتی تنوع کی حفاظت کے لئے عملی سطح پر کیا اقدامات اٹھاتے ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM