1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

حیاتیاتی تنوع خطرات کا شکار، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں خبردارکیا گیا ہےکہ حیاتیاتی تنوع کو شدید خطرات لاحق ہیں اورآئندہ کچھ عشروں میں جانداروں کی کئی نایاب اقسام ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائیں گی۔

default

اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جانداروں کی نایاب اقسام ڈرامائی طور پر ختم ہو رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے کنونش برائے حیاتیاتی تنوع پر کئی ممالک نے دلفریب وعدے تو کئے لیکن ان پر عمل نہ ہوسکا اور یہ صرف ایک لفظوں کا کھیل ہی ثابت ہوا

اس سے پہلے شائد ہی کبھی ایسا ہوا ہو کہ ایک نسل نے اپنی آئندہ آے والی نسل کے لئے اتنا قرض چھوڑا ہو۔ یہ صرف مالیات کے حوالے سے ہی نہیں بلکہ قدرت کےحوالے سے بھی سچ ثابت ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق اس کرہ ارض کا حیاتیاتی تنوع تباہی کےدہانے پرآن پہنچا ہے۔ موجودہ انسانی نسل شائد اس بات سے ناواقف ہے کہ ان کی غلطیوں کے نتیجے میں جانداروں کی نایاب اقسام کے خاتمے سے یہ کرہ ارض کس طرح متاثر ہو گا، جس کے اثرات ہماری آئندہ نسل کے لئے تباہ کن ثابت ہوں گے۔

اقوام متحدہ کی ہلا دینے والی اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے پر ڈاکٹر Manfred Niekisch کہتے ہیں۔ ''یہ رپورٹ بہت زیادہ اداسی کا باعث ہے کیونکہ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حیاتاتی تنوع کو محفوظ بنانے کے لئے ہم نے ابھی تک کیا کیا ہے اور کیا نہیں کیا۔‘‘

Flash Galerie Tiere

جانداروں کی کئی نایاب اقسام تباہی کے دہانے پر آن پہنچی ہیں

ڈاکٹر Niekisch فرینکفرٹ میں واقع چڑیا گھر کے ڈائریکٹر ہیں اور ساتھ ہی ماحولیات پر قائم وفاقی ایڈوئزری کونسل کے ممبر بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حیاتیاتی تنوع کو بچانے کے لئے سن 1992ء میں ریو ڈی جینرو میں ہونے والی ایک ارتھ سمٹ میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے کچھ عہد وپیماں کئے تھے۔ تاہم ان پر عمل نہ کیا گیا۔

اسی حوالے سے اقوام متحدہ کے اعلیٰ مندوب Anantha Kumar Dursiappah کہتے ہیں: '' بدقسمتی سے اُس وقت سے لے کر ابھی تک کچھ خاص نہ کیا گیا۔ لیکن کچھ کانفرنسیں ضرورمنعقد کی گئیں جو کافی مہنگی ثابت ہوئیں۔ اگر ہم ان کانفرنسوں کی پرخرچ کی جانے والی رقوم کو مسلے کے حل کےلئے براہ راست استعمال کرتے تو شائد ہم کئی کامیابیاں حاصل کر سکتے تھے۔ میں یہ نہیں کہوں گا یہ یہ تمام عالمی کانفرنسیں بے کار ثابت ہوئیں کیونکہ یہ اس عمل کا ایک اہم حصہ ہیں لیکن یہ کوئی فائدمند نہ رہیں۔ میں اس بات پر زور دوں گا کہ حیاتیاتی تنوع ہم سب کے لئے ایک بہت اہم معاملہ ہے۔‘‘

BdT Schnappschildkröte, fleischfressender Jäger

صنعتی ترقی کے باعث جرمن میں قدرت ناپید ہوتی جارہی ہے

سن انیس سو بانوے میں منعقد ہوئی ارتھ سمٹ کے دوران کل ایک سو اڑسھ ممالک نے عہد کیا تھا کہ وہ حیاتایتی تنوع کو بچانے کے لئے اہم اقدامات اٹھائیں گے تاہم اب سن دو ہزار دس تک کسی بھی ملک نے کوئی قابل ذکر قدم نہ اٹھایا۔

اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ میں ادارے کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ اس اجتماعی ناکامی کو اگر فوری طور پر درست نہ کیا گیا تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ حیاتیاتی تنوع کی وجہ سے ہی یہ ایکو سسٹم بچا ہوا ہے، اور ایکو سسٹم اس کرہ ارض کا ایک اہم ستون ہے، جس پر ہماری زندگیوں کا انحصار ہے۔

اس وقت جانداروں کی نایاب اقسام کی ایک بڑی تعداد ترقی پذیر ممالک میں پائی جاتی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں میں صنعتی ترقی کے بعد ان اقسام کا تقریبا خاتمہ ہوچکا ہے۔ اور اب ترقی پذیر ممالک جو ترقی کی راہ پر گامزن ہیں ، وہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ وہ بھی اپنے علاقوں سے جانداروںکی نایاب اقسام کے خاتمے کا باعث بن رہے ہیں۔

جرمن وفاقی وزارت برائے ماحولیات سے منسلک ڈاکٹر Dr. Elsa Nickel کہتی ہیں کہ صنعتی ترقی کے باعث جرمن میں قدرت ناپید ہوتی جارہی ہے، وہ جرمنی کے مشہور دریا رائن کی مثال دیتے ہوئے کہتی ہیں:’’رائن ، ہمارا خوبصورت دریا جو رومانوی قصے کہانیوں میں ایک اہم مقام رکھتا تھا، اب وہ دریا نہیں رہا۔ اس میں موجود تمام حیاتاتی تنوع ختم ہو چکا ہے۔ اب یہ صرف ایک پانی کی ایک پائپ لائن بن گیا ہے۔ اب یہ دریا قدرتی نہیں رہا بلکہ پانی مہیا کرنے کی ایک کمرشل باڈی بن گیا ہے۔‘‘

اقوام متحدہ نے رواں سال حیاتیاتی تنوع کا سال قرار دے رکھا ہے ۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جو کچھ اتنے سالوں سے نہیں ہو سکا، اب دیکھنا ہے کہ اس سال میں کیسے ممکن ہوتا ہے۔ تاہم اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں ایک مرتبہ پھر سے کہا ہے کہ قدرتی وسائل اور جانداروں کی نایاب اقسام کےتحفظ کے لئے خصوصی کوشش کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ حیاتیاتی تنوع کی حفاظت کے لئے بین الاقوامی برادری آئندہ سال اور مستقبل کے لئے اہداف،جاپان میں اکتوبر میں منعقد ہو رہی ایک اقوام متحدہ کی خصوصی سمٹ میں کریں گے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات