1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حکیم اللہ محسود کی ’ہلاکت‘ کی اطلاعات گردش میں

اتوار کے روز پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل پر نشر ہونے والی ایک رپورٹ کے بعد سے حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کی خبریں ایک مرتبہ پھر دنیا بھر کے تمام میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔

default

حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کی خبریں اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ سامنے آ چکی ہیں

پاکستان کے سرکاری ٹی وی پر خفیہ اداروں کی رپورٹوں کو بنیاد بنا کر کہا گیا کہ پاکستانی طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود 17 جنوری کو شمالی وزیرستان میں ایک امریکی ڈرون حملے میں شدید زخمی ہونے کے کچھ روز بعد انتقال کر گئے۔

حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے حوالے سے متضاد اطلاعات گزشتہ برس سے ہی وقفے وقفے سے گردش میں ہیں۔ گزشتہ برس اگست میں ایک ڈرون حملے میں پاکستانی طالبان کے اس وقت کے سربراہ بیت اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد پہلی مرتبہ طالبان کے ایک داخلی جھگڑے اور فائرنگ کے واقعے میں حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ قریب دو ہفتے قبل 14 جنوری کو شمالی وزیرستان میں ہونے والے ایک ڈرون حملے کے بعد پھر ایسی ہی اطلاعات کا سلسلہ شروع ہو گیا، تاہم بعد ازاں طالبان کی جانب سے حکیم اللہ محسود کے دو آڈیو پیغامات نشر کئے گئے۔ لیکن اس مرتبہ پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن پر سامنے آنے والی خبروں کے بعد حکیم اللہ محسود کی ہلاکت سے متعلق چہ مگوئیوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔

Baitullah Mehsud der am 5. August in einem US Drohnenangriff getöteter Talibanführer

بیت اللہ محسود بھی ایسے ہی ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے تھے

اتوار کے روز پاکستان ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا کہ حکیم اللہ محسود شمالی وزیرستان میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے اور انہیں قریبی قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں دفن کیا گیا۔ پی ٹی وی کی اس رپورٹ میں ملکی خفیہ اداروں کا حوالہ تو دیا گیا ہے تاہم ان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ پاکستانی فوج کے ترجمان نے اس رپورٹ پر اپنے رد عمل میں اس خبر کی تصدیق یا تردید کرنے کی بجائے کہا کہ فوج اس واقعے کی تفتیش میں مصروف ہے۔ پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک نے بھی اس خبر کی تصدیق نہیں کی۔ ان کے مطابق حکومت خفیہ ذرائع سے ایسی اطلاعات کی تصدیق کی کوشش کر رہی ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر یہ خبر ٹھیک ہوئی تو عسکریت پسندوں کی جانب سے ردعمل کے طور پر نئے دہشت گردانہ واقعات سامنے آ سکتے ہیں۔

پاکستان کے نجی ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والی کئی رپورٹوں میں طالبان ذرائع نے اس خبر کی تردید کی ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ اس سے قبل جب بیت اللہ محسود ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے تھے، تب بھی کئی دنوں تک طالبان بیت اللہ محسود کی ہلاکت کی تردید کرتے رہے تھے اور بعد میں حکیم اللہ محسود کو ان کا جانشین مقرر کیا گیا تھا۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ شاید طالبان یہ خبر چھپا کر کچھ وقت حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ اپنے نئے رہنما کا انتخاب کر سکیں۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : مقبول ملک

DW.COM