1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حکیم اللہ محسود پر امریکی عدالت میں فرد جرم

پاکستانی قبائلی علاقوں میں سرگرم تحریک طالبان کے مطلوب لیڈر حکیم اللہ محسود کے خلاف ایک امریکی عدالت میں استغاثہ نے سات امریکیوں کی ہلاکت سے متعلق چارج شیٹ پیش کر دی ہے۔ یہ امریکی افغانستان میں ہلاک ہوئے تھے۔

default

حکیم اللہ محسود: فائل فوٹو

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق افغانستان میں ایک امریکی فوجی مرکز پر CIA کے سات اہلکاروں کی ہلاکت میں ملوث ہونے کی بنیاد پر پاکستانی طالبان کے لیڈر حکیم اللہ محسود کو بطور ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ بعد ازاں عدالت میں استغاثہ نے محسود کے خلاف چارج شیٹ بھی پیش کر دی۔ تحریک طالبان کے اس لیڈر کو ان ہلاکتوں سے متعلق سازش میں ملوث قرار دیا گیا ہے۔ اس چارج شیٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ سمندر پار امریکیوں کی ہلاکت میں ملوث ہونے کے ساتھ ساتھ محسود نے mass destruction کے ہتھیار بھی استعمال کئے تھے۔

امریکی خفیہ ادارے CIA کے ملازمین کی ہلاکت کا واقعہ گزشتہ سال تیس دسمبر کو پیش آیا تھا، جب ایک اردنی ڈاکٹر نے ملازمین کا اعتماد حاصل کر کے انتہائی حد تک سکیورٹی انتظامات والی عمارت میں داخل ہو کر اپنے کپڑوں میں چھپایا ہوا بارودی مواد دھماکے سے اڑا دیا تھا۔ سات افراد کے ہلاک ہونے کے علاوہ چھ دیگر ملازمین زخمی بھی ہوئے تھے۔

اس اردنی ڈاکٹر کا نام حُمام خلیل ابو ملال البلاوی تھا۔ حملے کے بعد جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں وہ حکیم اللہ محسود کے ساتھ دکھایا گیا تھا۔ اس دہشت گردانہ حملے کی ذمہ داری اسی ویڈیو میں حکیم اللہ محسود نے قبول کی تھی اور اس کو اپنے لیڈر بیت اللہ محسود کی ہلاکت کا انتقام قرار دیا تھا۔

Flash-Galerie Pakistan: Hakimullah Mehsud

تحریک طالبان پاکستان کے لیڈر حکیم اللہ محسود

ایک امریکی حکومتی اہلکار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا کہ فوجداری الزامات لگانے کے بعد امریکی حکومت طالبان کے لیڈر حکیم اللہ محسود کے ساتھ حساب برابر کر سکتی ہے اور اس کو اب ہر ممکن طریقے سے انصاف کا سامنا کرنا ہو گا۔ امریکی وزارت خارجہ نے حکیم اللہ محسود کے بارے میں مصدقہ اطلاع کی فراہمی پر پچاس لاکھ ڈالر انعام مقرر کر رکھا ہے۔

امریکی فوج نے سات CIA اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد حکیم اللہ محسود کو ہلاک کرنے کی بہت کوششیں کیں لیکن تاحال ان میں سے کوئی بھی کامیاب نہیں ہو سکی۔ اسی سال جنوری میں رپورٹ کیا گیا تھا کہ حکیم اللہ محسود کو ایک ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔ ابتدا میں اس ہلاکت کی تقریباً تصدیق ہو گئی تھی لیکن بعد میں انٹرنیٹ پر جاری ہونے والی ویڈیوز سے پتہ چلا کہ وہ زندہ ہے۔

تحریک طالبان نے ہی نیویارک کے ٹائمز سکوائر پر پہلی مئی کو ایک ناکام دہشت گردانہ کارروائی کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔ اس کارروائی میں شریک مبینہ ملزم فیصل شہزادکو ہوائی جہاز پر سوار ہوتے ہوئے حراست میں لے لیا گیا تھا۔ اس نے گرفتاری کے بعد عدالت کو بتایا کہ اس نے تحریک طالبان سے تربیت کے علاوہ گاڑی خریدنے کے لئے بارہ ہزار ڈالر بھی حاصل کئے تھے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: مقبول ملک

DW.COM