1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حکیم اللہ محسود زندہ ہیں: نیا دھمکی آمیز ویڈیو پیغام

پاکستانی طالبان کے رہنما حکیم اللہ محسود زندہ ہیں اور پھر ’منظر عام‘ پر آ گئے ہیں۔ خیال کیا جاتا تھا کہ وہ جنوری میں ایک حملے میں مارے گئے تھے۔ اب ایک نئے ویڈیو میں انہوں نے ایک ماہ میں امریکہ پر حملوں کی دھمکی دی ہے۔

default

حکیم اللہ محسود

انٹرنیٹ مانیٹرنگ گروپ SITE کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو پیغام ممکنہ طور پر رواں برس چار اپریل کو ریکارڈ کیا گیا تھا، جس میں حکیم اللہ محسود یہ کہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں: ’’وہ وقت نزدیک ہے، جب ہمارے فدائین امریکی ریاستوں میں ان کے بڑے شہروں پر حملے کریں گے۔‘‘

Pakistan Landschaft in Waziristan Luftaufnahme

وزیرستان کا فضائی منظر

اس نئے ویڈیو پیغام کا دورانیہ نو منٹ ہے، جس میں حکیم اللہ محسود اپنے دو معاونین کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ اپنے اس نئے پیغام میں حکیم اللہ محسود نے کہا ہے کہ بیت اللہ محسود اور دیگر شدت پسند رہنماؤں کی موت کا بدلہ لیا جائے گا۔

بین الاقوامی خبر ایجنسیوں اور پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس ویڈیو ریکارڈنگ میں حکیم اللہ محسود نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور امریکی شہریوں کو ’’دردناک واقعات‘‘ پیش آئیں گے اور مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کو بھی ’’عبرتناک شکست‘‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پاکستانی طالبان کے رہنما حکیم اللہ محسود کے بارے میں خبر تھی کہ وہ جنوری میں پاکستان کے ایک قبائلی علاقے میں ایک امریکی میزائل حملے کے نتیجے میں مارے گئے تھے۔ تاہم گزشتہ ہفتے بعض پاکستانی انٹیلی جنس حکام نے یہ کہنا شروع کر دیا تھا حکیم اللہ اس حملے میں بچ گئے تھے۔

گزشتہ برس بھی حکیم اللہ محسود کے ایک حملے میں مارے جانے کی خبریں گردش میں رہی تھیں، جن کے بعد انہوں نے پاکستانی صحافیوں کے ایک گروپ کے ساتھ ملاقات کر کے اپنے زندہ ہونا ثبوت دے دیا تھا۔

Baitullah Mehsud der am 5. August in einem US Drohnenangriff getöteter Talibanführer

بیت اللہ محسود

حکیم اللہ محسود نے گزشتہ برس اگست میں تحریک طالبان کے اس وقت کے رہنما اور اپنے ساتھی بیت اللہ محسود کی ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد اس عسکریت پسند گروپ کی قیادت سنبھالی تھی۔ اس وقت بھی صحافیوں سے ملاقات میں حکیم اللہ نے بیت اللہ کی ہلاکت کا بدلہ لینے کی دھمکی تھی۔

تحریک طالبان کو پاکستان کے مختلف شہروں میں متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں کے لئے ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ یہ تحریک ایسے کئی حملوں کی ذمہ داری قبول بھی کر چکی ہے۔

اسی دوران حکیم اللہ محسود کی تحریک طالبان کی جانب سے مبینہ طور پر جاری کئے گئے ایک علیٰحدہ ویڈیو پیغام میں یکم مئی کو نیویارک میں ناکام رہنے والے دہشت گردانہ حملے کی ذمہ داری قبول کر لی گئی ہے۔ تاہم اس دعوے کی صداقت پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: مقبول ملک

DW.COM