1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حکیم اللہ محسود تحریک طالبان کے نئے سربراہ منتخب

تحریک طالبان پاکستان نے حکیم اللہ محسود کو بیت اللہ محسود کا جانشین منتخب کر لیا ہے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ماہِ رواں کے آغاز پر ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے جا چکے ہیں۔

default

حکیم اللہ محسود کی ایک فائل فوٹو

طالبان کا اصرار ہے کہ بیت اللہ محسود زندہ ہیں لیکن شدید علیل ہیں۔گذشتہ بدھ کے روز تحریک طالبان پاکستان کے نائب اور ایک سابقہ اُستاد مولوی فقیر نے اعلان کیا تھا کہ اُنہوں نے قائم مقام امیر کے طور پر گروپ کی قیادت سنبھال لی ہے۔

ہفتہ کو اُنہوں نے غالباً اپنے غیر قانونی ایف ایم ریڈیو کے ذریعے یہ خبر نشر کی کہ ایک بیالیس رُکنی شوریٰ نے متفقہ طور پر بیت اللہ محسود کے اب تک کے نائب اٹھائیس سالہ حکیم اللہ محسود کو تحریک کا نیا امیر منتخب کر لیا ہے جبکہ وہ خود پھر سے اِس گروپ کے نائب سربراہ ہوں گے۔ مولوی فقیر نے یہ بھی بتایا کہ باجوڑ کے علاقے میں وہ بدستور تحریکِ طالبان پاکستان کے سربراہ کی حیثیت سے کام کرتے رہیں گے۔

طالبان کے نئے قائد کے طور پر حکیم اللہ محسود کے انتخاب کے امکانات پہلے سے ہی یقینی بتائے جا رہے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کئی ایک غیر ملکی سفارت خانوں کو دی جانے والی حملوں کی دھمکیوں کے پیچھے تحریکِ طالبان کے نئے امیر ہی کا ہاتھ رہا ہے۔ بنیادی طور پر اورکزئی قبائلی ضلعے سے سرگرمِ عمل حکیم اللہ محسود نے پشاور کے پرل کانٹی نینٹل ہوٹل پر اُس دہشت پسندانہ حملے کی بھی ذمہ داری قبول کی تھی، جس میں کم از کم گیارہ افراد مارے گئے تھے۔ طالبان کے نئے قائد کو زندہ یا مُردہ حالت میں پکڑوانے والے کے لئے اسلام آباد حکومت نے ایک کروڑ روپے کا انعام مقرر کر رکھا ہے۔

اگرچہ طالبان ابھی بھی بیت اللہ محسود کی ہلاکت کی تردید کر رہے ہیں تاہم اِسی مہینے گرفتار ہونے والے طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے پاکستانی حکام کو بتایا تھا کہ بیت اللہ محسود درحقیقت پانچ اگست کے ڈرون حملے میں مارے جا چکے ہیں۔

Malerisch, aber folgenlos

پاکستانی طالبان افغانستان کی سرحد کے ساتھ شمالی و جنوبی وزیرستان میں سرگرم ہیں

اِسی دوران دو روز پہلے شمالی وزیرستان میں ڈانڈے ڈرپا خیل کے مقام پر مبینہ امریکی ڈرون حملے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر اکیس ہو گئی ہے، جن میں مقامی قبائلی رہنماؤں کے مطابق چھ بچے بھی شامل ہیں۔ اِس حملے کا مقصد غالباً افغان طالبان رہنما سراج حقانی کو نشانہ بنانا تھا، جس کا گڑھ اِسی علاقے میں ہے، جنہیں افغانستان میں متعدد دہشت پسندانہ حملوں کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے اور جن کے والد جلال الدین حقانی کے القاعدہ کے ساتھ گہرے روابط بتائے جاتے ہیں۔ آیا سراج حقانی اِس حملے کی زَد میں آئے ہیں، یہ بات ابھی غیر واضح ہے۔

اِسی دوران کل پشاور میں ایک حملے میں انتہا پسند گروپ انصار الاسلام کے ترجمان مبین آفریدی اپنے ڈرائیور سمیت ہلاک ہو گئے۔ بتایا گیا ہے کہ اُن کی گاڑی کے نیچے دس کلو گرام وزنی ایک بم نصب تھا، جسے ریموٹ کنٹرول کی مدد سے اڑا دیا گیا۔ اِس واقعے میں پانچ افراد زخمی ہو ئے۔ پولیس نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ اِس واقعے کے پیچھے حریف گروپ لشکرِ اسلام کا ہاتھ ہے۔ کل ہی وادیء سوات کے شہر کانجو میں ایک خود کُش حملہ آور نے سیکیورٹی فورسز کے گھیرے میں آنے کے بعد ایک مکان میں خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اِس واقعے میں دو فوجی ہلاک جبکہ تین شہری زخمی ہو گئے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: ندیم گِل

DW.COM