1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حکیم اللہ محسود بھی ہلاک، امریکی حکام

امریکی خفیہ اداروں اورپاکستانی وزیرداخلہ نے تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کادعویٰ کیا ہے۔ مقامی قبائل کا بھی کہنا ہے کہ طالبان رہنما چند ہفتے قبل مخالف قبیلے کے ساتھ جھڑپ کے دوران ہلاک ہوگئے

default

حکیم اللہ محسود

Baitullah Mehsud der am 5. August in einem US Drohnenangriff getöteter Talibanführer

بیت اللہ محسود

بیت اللہ محسود کی ہلاکت کے چند روز بعد انکے مخالف گروپ کے کمانڈر ترکستان بھٹانی نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ بیت اللہ محسود کی جانشینی کے حوالے سے پیدا ہونے والے اختلافات کے نتیجے میں مفتی ولی الرحمان اورحکیم اللہ محسود گروپ میں فائرنگ کاتبادلہ ہوا جس میں حکیم اللہ محسود ہلاک ہوئے۔ تاہم تحریک طالبان ان دعوﺅں کی تردید کرتے رہے۔

پانچ اگست کو مبینہ امریکی ڈرون حملے میں تحریک طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد حکیم اللہ محسود کو سربراہ مقرر کیاگیا حکیم اللہ محسود اس سے قبل پاکستان کے قبائلی علاقوں خیبرایجنسی، اورکزئی اورکرم ایجنسی میں مصروف عمل طالبان کے کمانڈر تھے۔ ان علاقوں میں ان کی سربراہی میں طالبان افغانستان میں مقیم امریکی اور اتحادی افواج کیلئے سامان لیکر جانےوالے ٹرکوں اور کنٹینٹرز کو نشانہ بناتے رہے۔ قبائلی عمائدین اورعسکری امور کے ماہر حکیم اللہ محسود کو کم تجربہ کار مگر جوشیلا کمانڈر کہہ کر انہیں انتہائی خطرناک قراردیتے تھے۔ اگرچہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کی باقاعدہ تصدیق ابھی نہیں ہوئی تاہم ماہرین کا

Pakistanische Älteste versammeln sich zu einer Jirga

بیت اللہ محسود نے قبائلی عسکری گروپوں کو اکٹھا کیا

کہناہے کہ بیت اللہ محسود اور حکیم اللہ کی ہلاکت، مولوی عمر اور مسلم خان سمیت کئی دیگر طالبان رہنماﺅں کی گرفتاری سے یہ تحریک کافی کمزور پڑچکی ہے۔

قبائلی امور کے ماہر اور بریگیڈ ئیر (ر) محمود شاہ کا کہناہے، 'طالبان مسلسل کمزور ہورہے ہیں۔ حکیم اللہ محسود میں شائد وہ قائدانہ صلاحیتیں موجود نہیں تھی جو بیت اللہ محسود میں تھیں۔ انہوں نے تحریک طالبان کے نام پر سب کو اکھٹا کیا حالانکہ قبائلی عوام کو اکھٹا کرنا انتہائی مشکل کام ہے اور یہ بیت اللہ کرچکے تھے۔ ان کے بعد یہ تحریک مسلسل کمزور ہورہی ہے اور انکے مابین اختلافات بھی کھل کر سامنے آرہے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل جب میڈیا میں حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کی خبریں آئیں تو انہوں نے خود میڈیا کو فون کرکے اسکی تردید کی تاہم حکومتی اہلکاروں کا دعویٰ ہے کہ یہ آواز ان کی نہیں تھی۔ اگروہ زندہ ہے تو طالبان ان کی ویڈیو جاری کردیں۔ حکیم اللہ محسود سے قبل تحریک کے سربراہ بیت اللہ محسود کی ہلاکت سے بھی طالبان انکار کرتے رہے ۔ بیت اللہ محسود نے ایک درجن سے زیادہ عسکری تنظیموں کو تحریک طالبان پاکستان کے پلیٹ فارم پراکھٹا کرکے مضبوط تحریک بنانے میں اہم کردار ادا کیا جس کے پیچھے ماہرین القاعدہ کاہاتھ قرار دے رہے ہیں۔

محمود شاہ کا کہنا ہے، 'اگر القاعدہ بیت اللہ محسود کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان کرے تو یہ انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ طالبان بذات خود اتنے مضبوط نہیں ہیں لیکن القائدہ کی سپورٹ نے انہیں مضبوط بنادیا ہے اور اب اگر انہوں نے تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا اعلان تو اس سے مشکلات سامنے آسکتی ہیں کیونکہ القاعدہ کے پاس وسائل اورافرادی قوت بھی ہے۔'

رپورٹ: فرید اللہ خان، پشاور

ادارت: ندیم گِل

DW.COM