1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

حکومت کے خلاف سازش، مزید 19 ترک فوجی افسر گرفتار

ترکی میں اسلام پسند ملکی حکومت کا تختہ الٹنے کی مبینہ کوشش کے سلسلے میں جاری تحقیقات کے دوران مزید کم ازکم 19 فوجی افسروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

default

حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش میں اب تک کئی افراد گرفتار کئے جا چکے ہیں

انقرہ سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق ترکی میں اسلام پسندانہ سوچ کے حامل وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کی منتخب جمہوری حکومت کو بغاوت کے ذریعے اقتدار سے علٰیحدہ کرنے کی مبینہ سازش کے سلسلے میں چھان بین کے دوران ملکی فوج کے جن 19 افسران کو حراست میں لیا گیا ہے، ان میں چار جرنیل بھی ش‍امل ہیں۔

ان تازہ گرفتاریوں کی ترک خبر ایجنسی انادولو نے بھی تصدیق کر دی ہے۔ ترکی کے ایک پرائیوٹ ٹیلی وژن چینل NTV نےملکی وزارعت انصاف کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی طرف سے تازہ چھاپوں کے دوران گرفتار کئے گئے افراد کی تعداد 95 بنتی ہے۔

Türkei Verfassungsgericht in Ankara Verbotsantrag gegen Erdogan Partei AKP

وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کئی سالوں سے اس کوشش میں ہیں کہ ملکی سیاست میں فوج کو حاصل بے تحاشا اثر ورسوخ کو کم کیا جائے

ترکی میں اس سلسلے میں ریاستی دفتر استغاثہ کی طرف سے شروع کی گئی تحقیقات کو اب کئی مہینے ہو گئے ہیں، اور اب تک چالیس کے قریب حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی افسران پر باقاعدہ فرد جرم بھی عائد کی جا چکی ہے۔

ان ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے وزیر اعظم ایردوآن کی حکومت کا تختہ الٹنے کا پروگرام بنایا تھا۔ خود وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کئی سالوں سے اس کوشش میں ہیں کہ ملکی سیاست میں فوج کو حاصل بے تحاشا اثر ورسوخ کو کم کیا جائے۔

اسی حوالے سے ایردوآن کی جماعت نے ابھی حال ہی میں ترکی کے ریاستی آئین میں کئی مجوزہ ترامیم سے متعلق ایک مسودہ قانون بھی انقرہ کی پارلیمان میں پیش کر دیا تھا، جس پر صدر عبداللہ گل نے ملک میں حکومت اور فوج کے مابین کشیدگی کے پس منظر میں یہ کہا تھا کہ حکومت ان آئینی ترامیم کے سلسلے میں زیادہ سیاسی بصیرت اور احتیاط پسندی کا مظاہرہ کرے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM